بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

‌شوہر کی اجازت کے بغیر گھر چھوڑنے والی بیوی کا نان و نفقہ


سوال

اگر کسی شخص کی بیوی اس کی اجازت کے بغیر گھر چھوڑ کر چلی جائے تو کیا وہ نان نفقہ کی مستحق ہے یانہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر بیوی شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے چلی جائے تو ایسی عورت شوہر کی نافرمان اور ناشزہ کے حکم میں ہوتی ہے۔ ناشزہ ہونے کی وجہ سے وہ گناہ گار بھی ہوتی ہے اور نفقہ کی حق دار بھی نہیں رہتی، یہاں تک کہ وہ شوہر کے گھر واپس آ جائے یا شوہر اسے وہاں رہنے کی اجازت دے دے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً بیوی شوہر کی اجازت کے بغیر چلی گئی ہو تو ایسی صورت میں وہ نفقہ کی حق دار نہیں ہوگی۔

 

قال: ولا نفقۃ للناشزۃ مادامت علی تلک الحالۃ ۔۔ ۔ وفی الخانیۃ: الناشزۃ هی التی خرجت من منزل الزوج بغیر إذنہ بغیر حق۔ (الفتاوى التاتارخانیۃ ،کتاب النفقات،الفصل الأول في بيان من يستحق النفقة ومن الزوجات۔۔۔،ج:5،ص:365،366، رقم: 8219)


فتویٰ نمبر : 7345/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں