بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

غیر صاحب نصاب طالب علم کو زکوۃ دینا


سوال

اگر کسی طالب علم کے پاس درسی اور خارجی اتنی کتابیں موجود ہیں کہ قیمت لگانے پر طالب علم مالک نصاب بن رہاہو ہے . حالانکہ درسی مصروفیات کی بنا پرمذکورہ کتابیں سال میں ایک مرتبہ بھی نہیں پڑھ سکتا ۔ جبکہ ان کتابوں کی خریداری اس نیت سے ہوئی ہے کہ فراغت کے بعد ان کو استعمال میں لایا جائے گی یعنی یہ کتابیں زیر مطالعہ ہوں گی۔ اب سوال یہ ہے ۔ 1 :مذکورہ طالب علم زکوۃ وصول کر سکتا ہے یا نہیں ؟ 2: در میان سال نئی کتابیں بھی آگئی ہوں تو سال کے آخر میں یہ بھی شمار ہوں گی یا نہیں ؟

جواب

اگر کسی طالبِ علم کے پاس اتنی درسی کتابیں ہوں جن کی قیمت زکوٰۃ کے نصاب تک پہنچتی ہو، لیکن اس نے یہ کتابیں خریدتے وقت تجارت کی نیت نہ کی ہو بلکہ صرف مطالعہ اور تعلیم کے لیے خریدی ہوں، تو ایسی صورت میں اگر اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال موجود نہ ہو جو زکوٰۃ کے نصاب تک پہنچتا ہو، تو شرعاً ایسا طالبِ علم زکوٰۃ وصول کر سکتا ہے۔اسی طرح اگر سال کے دوران اس نے مزید نئی کتابیں بھی خریدی ہوں، اور وہ بھی تجارت کی نیت سے نہ خریدی ہوں، اور وہ اپنے دیگر اموال کی وجہ سے مالکِ نصاب نہ بن رہا ہو، تو اس صورت میں بھی وہ زکوٰۃ وصول کرنے کا مستحق ہوگا۔

 

(قوله: فارغ عن حاجته) قال في البدائع: قدر الحاجة هو ما ذكره الكرخي في مختصره فقال: لا بأس أن يعطي من الزكاة من له مسكن، وما يتأثث به في منزله وخادم وفرس وسلاح وثياب البدن وكتب العلم إن كان من أهله، فإن كان له فضل عن ذلك تبلغ قيمته مائتي درهم حرم عليه أخذ الصدقة، لما روي عن الحسن البصري۔(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الزكاة،باب مصرف الزكاة والعشر،ج:2،ص:347)


فتویٰ نمبر : 10842/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں