بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
نکاح نامہ میں والد کی جگہ کسی اور کا نام لکھنا
سوال
مسمی عرفان اللہ کے ہاں لڑکا پیدا ہوا، حسن نام رکھ کر اسی وقت عبدالرحمن کودیا، عبدالرحمن نے نادرا میں رجسٹریشن کے دوران حسن ولد عبدالرحمن درج کردیا، اب حسن کی منگنی کرادی گئی ہے اور نکاح میں علمائے کرام لڑکی اور لڑکے کی ولدیت کا نام لے کرنکاح پڑھاتےہیں۔ لہذا عرض یہ ہےکہ حسن کے نکاح میں ولدیت کس کے نام سے ہوگی۔ اگر اصل والد صاحب عرفان اللہ کے نام سے نکاح پڑھیں گےتو نادرا میں نکاح رجسٹریشن نہیں ہوسکے گی کیونکہ شناختی کارڈ میں حسن ولد عبدالرحمن ہے۔ لہذا شریعت کے مطابق اس کا حل بتا دیا جائے۔
جواب
شرعی نقطہ نظر سے نکاح میں زوجین کا اس طرح تذکرہ ضروری ہے کہ وہ دیگر افراد سے الگ اور ممتاز ہوسکیں اوران کی ذات سے متعلق کسی قسم کا ابہام یا جہالت باقی نہ رہے، اسی لیے فقہائے کرام نےلکھا ہے کہ اگر زوجین کی تعیین صرف نام سے نہ ہوتی ہو تو والد کا ذکرلازمی ہے۔
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ لڑکا اگراپنے حقیقی باپ کی طرف نسبت میں مشہور ہو تو ایجاب اور قبول کےوقت لڑکے کے حقیقی باپ کا نام لینا ضروری ہوگا اوراگر پالنے والے آدمی کی طرف نسبت میں مشہورہو تو اس کا نام لینا ضروری ہوگا تاکہ اس کا صحیح تعین ہوجائے۔جہاں تک نکاح نامہ کا تعلق ہےتو اگر لڑکےکے شناختی کارڈ اور باقی دستاویزات میں حقیقی والد کی بجائے پالنے والے کا نام درج ہواور انہیں تبدیل کرانا مشکل ہو تو مجبوری کی صورت میں نکاح نامہ میں اس کانام لکھنے کی گنجائش ہے۔ ایک مرتبہ صحیح طریقے سے نکاح منعقد ہوجانے کے بعد محض نکاح نامہ میں غلط اندراج کی وجہ سےنکاح پر فرق نہیں پڑے گا۔
قوله: ولا المنكوحة مجهولة) فلو زوج بنته منه وله بنتان لا يصح إلا إذا كانت إحداهما متزوجة، فينصرف إلى الفارغة كما في البزازية نهر، وإطلاق قوله لا يصح دال على عدم الصحة، ولو جرت مقدمات الخطبة على واحدة منهما بعينها لتتميز المنكوحة عند الشهود فإنه لا بد منه رملي.
قلت: وظاهره أنها لو جرت المقدمات على معينة وتميزت عند الشهود أيضا يصح العقد وهي واقعة الفتوى؛ لأن المقصود نفي الجهالة، وذلك حاصل بتعينها عند العاقدين والشهود، وإن لم يصرح باسمها(ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب النكاح، ج:4،ص،77)
والحاصل أن الغائبة لا بد من ذكر إسمها وإسم أبيها وجدها وإن كانت معروفة عند الشهود على قول إبن الفضل، وعلى قول غيره:يكفي ذكر إسمها إن كانت معروفة عندهم، وإلا فلا، وبه جزم صاحب الهداية في التجنيس وقال:لأن المقصود من التسمية التعريف وقد حصل، وأقره في الفتح والبحر۔ (ردالمحتار على الدر المختار، كتاب النكاح، ج:4، ص90)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں