بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
ڈاکٹرکا آپریشن کرنےکی وجہ سے جمعہ چھوڑنا
سوال
میں سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹر ہوں جمعہ کے دن آپریشن(O.T) ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے اکثرنماز جمعہ فوت ہو جاتی ہے، اس کے لئے کیا کوئی متبادل ہے یا نہیں،اوراس کا کیا حکم ہے؟
جواب
واضح رہے کہ جمعہ کی نماز فرض ہے اوربغیر کسی شرعی عذر کے فرض نماز ترک کرنا ناجائزاور گناہ ہے۔
صورتِ مسئولہ میں اگر ڈاکٹر کو آپریشن کے وقت میں تبدیلی کا اختیار حاصل ہو، یااس کی کوشش سے آپریشن کا وقت تبدیل کرنا ممکن ہو، تو اس پرلازم ہے کہ آپریشن کا وقت تبدیل کرے۔ اور اگر ہسپتال کی نوعیت ایسی ہو کہ ڈاکٹر کی کوشش اوراختیار کے باوجود وقت تبدیل کرنا ممکن نہ ہو، اور اس کے نتیجے میں ہر جمعہ کی نماز چھوڑنا لازم آتا ہو، تو ایسی صورت میں اس ملازمت کو ترک کرکے کسی دوسرے ہسپتال میں متبادل ملازمت اختیار کرنا ضروری ہوگا۔ البتہ اگر تاخیرکی صورت میں مریض کی جان کو خطرہ ہو، اور کوئی متبادل ڈاکٹر بھی موجود نہ ہو، تو ایسی مجبوری کی حالت میں نمازِ جمعہ چھوڑ کر نمازِظہرادا کرنا جائز ہوگا۔
أما الأول فالجمعة فرض لا يسع تركها ويكفر جاحدها والدليل على فرضية الجمعة الكتاب والسنة وإجماع الأمة۔ ( بدائع الصنائع،كتاب الجمعة،ج:1، ص:256)
(ووجب سعي اليها وترک البيع) ولومع السعي ۔۔۔(قوله وترك البيع)أراد به كل عمل ينافي السعي ۔ (ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب الصلوۃ ، ج:2، ص:161)
(قوله وقيامه بمريض) أي يحصل له بغيبته المشقة والوحشة، كذا في الإمداد۔(ردالمحتار علی الدرالمختار،کتاب الصلوۃ، ج:1، ص:351)
والأصح وجوبها على مكاتب ومبعض وأجير، ويسقط من الأجر بحسابه لو بعيدا، وإلا لا.۔۔۔قوله :(وأجير) مفاده أنه ليس للمستأجر منعه وهو أحد قولين، وظاهر المتون يشهد له كما في البحر.(رد المحتارعلی الدرالمختار :2/ 154)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں