بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

زندگی میں اپنا گھربیٹے کے نام کرنا


سوال

اگرایک شخص اپنی جائیداد میں سے کوئی گھر تملیک کے طور پر کسی بیٹے کے نام کردےاورباپ بیٹا دونوں اس میں رہائش پذیرہوں، تو کیا باپ کے مرنے کے بعد یہ گھراس کے ترکہ میں شمار ہوگا یا بیٹے کی ملکیت شمار ہوگی؟

 

جواب

واضح رہےکہ انسان کا اپنی زندگی میں اپنی جائیداد میں سے کسی کو بلاعوض کچھ دینا ہبہ کہلاتا ہے، اورہبہ مکمل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ہبہ کرنے والااس چیز سے اپنا قبضہ اور تصرف کا اختیارختم کرکےموہوب لہ (جس کو ہبہ کررہا ہے) کے مکمل  قبضہ اور تصرف میں دے دے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص اپنا گھر بیٹے کے نام کردے ،لیکن والد وہ خودبھی اس گھر میں رہائش پذیر ہو تو چونکہ اس صورت میں مکمل قبضہ اور تصرف کا اختیار نہیں دیا گیا اس لیے یہ گھر باپ کی ملکیت سے نہیں نکلے گا،اور موت کے بعد اس کاترکہ شمار ہوکر تمام ورثاء میں تقسیم ہوگا۔

 

لايثبت الملك للموهوب له إلابالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية.(الفتاوى الهندية، الباب الثانی فیما یجوز من الهبة وما لایجوز،ج: 4،ص: 378)

وفي المنتقى عن أبي يوسف:لايجوزللرجل أن يهب لامرأته وأن تهب لزوجها أولأجنبي دارًاوهمافيهاساكنان، وكذلك الهبة للولد الكبير؛ لأن يد الواهب ثابتة علی الدار.(الفتاوى التاتارخانیة ، فیما یجوز من الهبة وما لا یجوز،  نوع منه، ج:14، ص:431)

وشرائط صحتها (‌في ‌الموهوب ‌أن ‌يكون ‌مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول).(ردالمحتار علی الدر المختار، ‌‌كتاب الهبة،ج:5، ص:688)


فتویٰ نمبر : 6578/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں