بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

دیہات میں نمازجمعہ ادا کرنا


سوال

میں ایک دیہاتی علاقہ حسن خیل میں رہتاہوں جو ضلع پشاور میں آتاہے،یہاں ایک چھوٹا سا بازار بھی ہے ،جس  میں روزمرہ زندگی کی ضروریات پوری ہو سکتی ہیں اور اس کی مجموعی آبادی تقریباََ تین ہزار تک ہے،کیا اس علاقہ میں نماز جمعہ ادا کرنا جائز ہے یا ناجائز؟

جواب

واضح رہے کہ نمازجمعہ  کی صحت کے  لیے شہرکا ہونایا شہرکے مضافات  کاہونا  ضروری ہےاور بڑاگاؤں بھی شہر کے حکم میں ہوتا ہے یعنی جس طرح شہر یا اس کے مضافات میں نماز جمعہ ادا کرنا جائز ہے تو اسی طرح بڑے گاؤں میں بھی جائز ہے ۔موجودہ دور میں جس گاؤں کی کل آبادی دوہزار یا اس سے زیادہ ہواوراس میں ضروریات زندگی آسانی سے مل سکتی ہو،تو اس میں نمازِجمعہ کے دیگر شرائط کے ساتھ نمازِجمعہ ادا کرنا جائز ہے۔

لہٰذا صورتِ مسؤولہ میں اگر مذکورہ علاقہ کی کل آبادی واقعی  تین ہزارتک ہواوراس میں ضروریات زندگی آسانی سے مل سکتی ہوں تو اس میں نماز جمعہ ادا کرنا جائز ہے ۔ تاہم اصل صورتِ حال مقامی علمابہتر بتا سکتے ہیں۔

 

 لا تصح الجمعة إلا في مصر جامع أو في مصلى المصر ولا تجوز في القرى " لقوله عليه الصلاة والسلام " لا جمعة ولا تشريق ولا فطر ولا أضحى إلا في مصر جامع.(الهداية،باب الجمعة،ج:1،ص:177)

وفي حد المصر أقوال كثيرة اختاروا منها قولين: أحدهما ما في المختصر ثانيهما ما عزوه لأبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمه وعلمه أو علم غيره والناس يرجعون إليه في الحوادث قال في البدائع، وهو الأصح وتبعه الشارح، وهو أخص مما في المختصر، وفي المجتبى وعن أبي يوسف أنه ما إذا اجتمعوا في أكبر مساجدهم للصلوات الخمس لم يسعهم، وعليه فتوى أكثر الفقهاء.(البحرالرائق،باب الجمعة،ج:2،ص:246)


فتویٰ نمبر : 10860/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں