بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
مختلف کیرٹوں والے سونے میں زکوۃ
سوال
اگر کسی کے پاس کچھ سونا 21کیرٹ کا ہو اور کچھ 24کیرٹ کا توزکوٰۃ ادا کرتے وقت 21 کیرٹ کے حساب سے اداکرے گا یا 24 کیرٹ کے حساب سے؟
جواب
اس میں کوئی شک نہیں کہ سونے، چاندی میں قدرتی اور خلقی طور پر نمو(بڑھوتری)ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب سونا،چاندی نصاب کو پہنچ جائے تو اس سے زکوۃ دینا لازم ہوتا ہے، لیکن اگر کوئی شخص سونے، چاندی کی بجائے اس کی قیمت کے اعتبار سے زکوۃ ادا کرنا چاہے تو فقہاءکرام کے تصریحات کے مطابق قیمتِ فروخت یعنی اس وقت جو مارکیٹ ریٹ ہواسی کا اعتبار ہوگا۔
صورت مسئولہ میں اكيس کیرٹ والے سونے کی زکٰوۃ اكيس کیرٹ کی قیمت فروخت کے اعتبار سے اور چوبيس کیرٹ والے سونے کی زکٰوۃ اس کی قیمت فروخت کے اعتبار سے لازم ہوگی۔
(والمعتبر وزنهما أداء ووجوبا) لا قيمتهما.وقال تحته ابن عابدين: (والمعتبر وزنهما أداء)أي من حيث الأداء: يعني يعتبر أن يكون المؤدى قدر الواجب وزنا عند الإمام والثاني... وأجمعوا أنه لو أدى من خلاف جنسه اعتبرت القيمة، حتى لو أدى من الذهب ما تبلغ قيمته خمسة دراهم من غير الإناء لم يجز في قولهم لتقوم الجودة عند المقابلة بخلاف الجنس، فإن أدى القيمة وقعت عن القدر المستحق، كذا في المعراج نهر. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الزكاة، ج:3، ص:227)
المال الذي تجب فيه الزكاة أدى زكاته من خلاف جنسه أدى قدر قيمة الواجب إجماع... ويجوز دفع القيم في الزكاة عندنا...وإذا كان لرجل مائتا قفيز حنطة قيمتها مائتا درهم فصاحبها بالخيار إن شاء أدى زكاتها من العين، وهي خمسة أقفزة حنطة، وإن شاء أدى زكاتها من القيمة كذا في شرح الطحاوي. (الفتاوى الهندية،كتاب الزكاة،ج:1،ص:242)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں