بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

غیر مقسوم ترکہ میں زکوۃ


سوال

اگر مال وراثت تقسیم نہ ہو اور ڈیڑھ سال گزر جائے تو تقسیم سے پہلے1 سال کی زکوٰۃ نکالیں گے یا 2 سال کی؟ 

جواب

واضح رہے کہ جب کسی شخص کو نصاب کے بقدر مال پر ملک ِتام حاصل ہو جائے یعنی مال اس کی ملکیت میں ہو اور اس میں تصرف کا اختیاربھی حاصل ہو، اور اس پر سال گزر جائے تو ایسی صورت میں اس شخص پر زکوۃ کی ادائیگی واجب ہوجائےگی۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر ترکہ تقسیم نہ ہوا ہو البتہ اس میں تمام ورثا کو تصرف کا اختیارحاصل ہو تو اس پر ملک تام ثابت ہوگا لہذا اگر ورثا کا حصہ بقدر نصاب ہو یا دیگر اموال کے ساتھ مل کر نصاب پوری ہوتی ہو تو زکوۃ واجب ہوگی اور اگر ترکہ بعض ورثا کی تحویل میں ہو اور باقی ورثا کے مطالبہ کرنے کے باوجود بھی تقسیم نہ کرتےہوں اور ان کو تصرف کا اختیار نہ دیتے ہوں تو اس صورت میں جن ورثا کی تحویل میں ترکہ ہو ان پر اپنے حصے کے مطابق زکوۃ ادا کرنا واجب ہے اورجن ورثا کو تصرف کا حق نہیں ان پر تقسیم سے پہلےکچھ لازم نہیں۔

 

(قال): ولو أن رجلا ورث عن أبيه ألف درهم فأخذها بعد سنين فلا زكاة عليه لما مضى في قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى الآخر وفي قولهما عليه الزكاة لما مضى ففي هذا الرواية جعل الموروث بمنزلة ‌الدين ‌الضعيف مثل الصداق وبدل الخلع. (المبسوط للسرخسي،كتاب النوادر الزكاة،ج:3،ص:41)

وأما سائر الديون المقر بها فهي على ثلاث مراتب عند أبي حنيفة رحمه الله تعالى ضعيف وهو كل دين ملكه بغير فعله لا بدلا عن شيء نحو الميراث.الفتاوى الهندية،كتاب الزكاة،ج:1،ص:236)

ومنها الملك التام وهو ما اجتمع فيه الملك واليد وأما إذا وجد الملك دون اليد كالصداق قبل القبض أو وجد اليد دون الملك كملك المكاتب والمديون لا تجب فيه الزكاة. (الفتاوى الهندية،كتاب الزكاة ،ج:1،ص:233)


فتویٰ نمبر : 10834/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں