بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 16/08/2026 |
دارالافتاء
بعض ورثا کا مرحوم کی وصیت نافذ کرکے ان کو حصہ ملنا
سوال
ایک شخص نے اپنی بیوی کے لیے کُل مال کی وصیت کی تھی۔ انتقال کےوقت اس کے ورثا میں بیوہ (جس کے لیے وصیت کی تھی)، ماں، ایک بیٹی، دو بھائی اور دو بہنیں زندہ موجود تھیں۔ ترکہ کی تقسیم سے پہلے والدہ وفات پاگئیں اس کے بعد بہن بھائیوں نے باقاعدہ اسٹامپ پیپر پر وصیت نافذ کرنے کی اجازت دے دی، مگر بیٹی نے اجازت نہیں دی۔ اب سوال یہ ہے کہ والدہ کو مرحوم کے ترکہ میں جو حصہ شرعاً ملا تھا: کیا اب وہ حصہ اس کے ورثا یعنی انہی بہن بھائیوں یا ان کی اولاد میں بطورِ مناسخہ تقسیم ہوگا یا نہیں؟ براہِ کرم تفصیلی وضاحت فرمائیں۔
جواب
واضح رہے کہ کسی شخص کا اپنے ورثا کے لیے وصیت کرنا معتبر نہیں۔ اس لیے کہ شریعت نے ہر وارث کا حصہ متعین کیا ہے جو مورث کی وفات کے بعد اس کے زندہ ورثا کو دیا جاتا ہے، البتہ اگر تمام ورثا عاقل بالغ ہوں اورموصی (وصیت کرنے والے) کے مرنے کے بعد اپنی خوشی سے مرحوم کی وصیت کو نافذ کرنے کی اجازت دیں تو ایسی صورت میں مورث کی وصیت نافذ ہوجائے گی، چاہے ورثا نے تقسیم اور قبضہ سے پہلے وصیت کو نافذ کیا ہو یا اس کے بعد۔ اوراگر بعض ورثا اجازت دے دیں تو وصیت صرف ان کے حصوں کے بقدر نافذ ہوگی، جب کہ وہ ورثا جنہوں نے اجازت نہ دی ہو انہیں ان کاپورا شرعی حصہ دیا جائے گا۔ نیز یہ بات بھی واضح رہے کہ میراث میں حاصل ہونے والا حق اضطراری ہوتا ہے، اس لیے اگر چہ ترکہ تقسیم نہ ہوا ہو، پھر بھی ہر ایک وارث مورث کے ترکے میں اپنے حصے کا مالک ہوتاہے۔
صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر واقعی مرحوم شوہر نے اپنی بیوی کے لیے کُل مال کی وصیت کی تھی، اور ترکہ کی تقسیم سے پہلے والدہ وفات پاگئی ہو، اور پھر ورثا میں سے بہن بھائیوں نےاپنے مرحو م بھائی کی وصیت نافذ کرنے کی اجازت دے دی ہو، جبکہ بیٹی وصیت نافذ کرنے پر راضی نہ ہو، توایسی صورت میں بیٹی کو مرحوم کی جائیداد میں اپنا پورا شرعی حصہ (یعنی نصفِ ترکہ) ملے گا، جبکہ بہن بھائیوں کے حصے بیوہ کوملیں گے۔ نیز چونکہ والدہ کے انتقال کے بعد بہن بھائیوں نے وصیت نافذ کرنے کی اجازت دی یے، اس لیے ماں کے واسطے سے جو حصہ مرحوم کے ترکہ میں ان بہن بھائیوں کو ملا ہے، اس میں بھی وصیت نافذ سمجھی جائے گی، اور نتیجتاً وہ بھی اس بیوہ کا حق ہوگا۔
قال: "ولا تجوز لوارثه" لقوله عليه الصلاة والسلام: "إن الله تعالى أعطى كل ذي حق حقه، ألا لا وصية لوارث" ولأنه يتأذى البعض بإيثار البعض ففي تجويزه قطيعة الرحم ولأنه حيف بالحديث الذي رويناه..... قال: "إلا أن تجيزها الورثة" ويروى هذا الاستثناء فيما رويناه، ولأن الامتناع لحقهم فتجوز بإجازتهم؛ ولو أجاز بعض ورد بعض تجوز على المجيز بقدر حصته لولايته عليه وبطل في حق الراد. (الهداية في شرح بداية المبتدي، كتاب الوصايا، باب في صفة الوصية ما يجوز من ذاك وما يستحب منه وما يكون رجوعا عنه، ج: 4، ص: 514)
ولو أوصى لبعض ورثته، فأجاز الباقون؛ جازت الوصية؛ لأن امتناع الجواز كان لحقهم لما يلحقهم من الأذى والوحشة بإيثار البعض، ولا يوجد ذلك عند الإجازة، وفي بعض الروايات عنه عليه الصلاة والسلام أنه قال: لا وصية لوارث إلا أن يجيزها الورثة. (بدائع الصنائع، كتاب الوصايا، فصل في شرائط ركن الوصية، ج: 7، ص: 338)
وكل ما جاز بإجازة الوارث فإنه يملكه المجاز له من قبل الموصي عندنا حتى يتم بغير قبض، ولا يمنع الشيوع صحة الإجازة وليس للوارث أن يرجع فيه، كذا في الكافي.....ولو أجاز البعض ورد البعض يجوز على المجيز بقدر حصته وبطل في حق غيره، كذا في الكافي وفي كل موضع يحتاج إلى الإجازة إنما يجوز إذا كان المجيز من أهل الإجازة نحو ما إذا أجازه وهو بالغ عاقل صحيح، كذا في خزانة المفتين. (الفتاوى الهندية، كتاب الوصايا، الباب الأول في تفسير الوصية وشرط جوازها وحكمها، ج: 6، ص: 106)
لأن الإرث من أسباب الملك فإذا ورثه فقد ملكه. (بدائع الصنائع، کتاب الحوالة، فصل في الرجوع في الحوالة، ج: 6، ص: 19)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 313
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 854
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 432
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 109
- کتاب النکاح | فتاوئ : 547
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 472
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 459
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 97
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 72
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 170
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 382
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 314
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1152
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 373
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں