بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

عقیقہ سے پہلے بچے کا فوت ہوجانا


سوال

 ایک بندے نے اپنی بیٹی کی عقیقہ کے لیے  ایک بکرا پالا تھا  ،مگر عقیقہ ہونے سے پہلے ہی اس بیٹی کا انتقال ہو گیا اب اس بکرا  کو عقیقہ کے لیے ذبح کیا جائے گا یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ بچے یا  بچی کی پیدائش پر عقیقہ کرنا مستحب ہے ،لیکن صورت مسؤلہ کے مطابق  اگر  کسی نے اپنی بیٹی کے عقیقہ کے لیے  بکرا پالا ہو، لیکن عقیقہ کر نے سے پہلے بیٹی کا انتقال ہو جائے،تو ایسی صورت میں  اس بکرےکو اس بچی کے  عقیقہ کے طور پرذبح  کر نا ممکن نہ رہا اس لیے اب اس کا عقیقہ نہیں ہو سکتا  اور اس کو اختیار ہے کہ اس بکری میں جو بھی تصرف کرنا چاہے تو کرے۔

 

‌أن ‌الغلام ‌مرتهن بعقيقته،وأجود شروحه ما ذكره أحمد.وحاصله: أن الغلام إذا لم يعق عنه، فمات لم يشفع لوالديه. ثم إن الترمذي أجاز بها إلى يوم إحدى وعشرين. قلت: بل يجوز إلى أن يموت، لما رأيت في بعض الروايات أن النبي صلى الله عليه وسلم عق عن نفسه بنفسه.(فيض الباري ،كتاب العقيقة ، باب العتيرة،ج:5،ص:648)


فتویٰ نمبر : 10831/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں