بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

باپ کا اپنی زندگی میں بیٹوں کو زمین ہبہ کرنا


سوال

ایک شخص کے 4 بیٹے اور 1 بیٹی ہے اس کی کل 300 کنال  زمین ہے  اس میں سے 30 کنال  اس نے اپنی زندگی میں 4بیٹوں کے نام پر کر دی  تھی اور باپ کی موجودگی میں ہر ایک بیٹے نے اپنے حصہ پر قبضہ بھی کرلیا تھا  جبکہ باقی 270 کنال فوت ہونے کے بعد 4بیٹوں  اور 1 بیٹی کے حصے میں برابر تقسیم ہو گئی اب  کیااس  30  کنال میں بیٹی کا حصہ بنتا ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے كہ جب باپ اپنی زندگی میں اولاد  کو زمین یا  کوئی اور چیز  ہبہ كرے، اور قبضہ بھی دے دے تو جس  کو ہبہ کیا ہووہ اس کا مالک بن جاتا ہے۔

لہذا صورت مسؤلہ میں  جب  والد نے  جو زمین  بیٹوں  کے نام  کی ہے  اور بیٹوں نے  اس پر قبضہ بھی کیا ہے تو وہ زمین  بیٹوں کی ملکیت بن چکی ہے  لہذا  بیٹی  کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہوگا  ۔

 

أن القبض بمنزلة القبول في الهبة من حيث إنه يتوقف عليه ثبوت حكمه وهو الملك.(الهداية ،كتاب الهبة،ج:3،ص:222)

أما أصل الحكم فهو ثبوت الملك للموهوب له في الموهوب من غيرعوض.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،ج:6،ص:127)

إذا توفي الواهب ،ليس لورثته استرداد الموهوب.(شرح المجلة لسليم رستم باز،المادة:872،ص:482)


فتویٰ نمبر : 6576/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں