بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/08/2026

دارالافتاء

 

زم زم کے پانی سے وضو اور غسل کرنا


سوال

زم زم کے پانی سے وضو اور غسل کرنے کا حکم کیا ہے؟

جواب

جو شخص باوضو اور پاک ہو، وہ اگر محض برکت کے لیے آبِ زمزم سے وضو یا غسل کرے تو جائز ہے۔  لیکن بے وضو آدمی کا زمزم پانی سے وضو کرنا یا کسی جنبی کا اس سے غسل کرنا مکروہ ہے۔ جب کہ دوسرا پانی موجود ہو لیکن اگر دوسرا پانی نہ ہو تو پھر گنجائش ہوگی، زمزم نہایت متبرک پانی ہے، اس کا ادب ضروری ہے، اس کا پینا برکت کا باعث ہے، اور چہرے پر، سر پر اور بدن پر ڈالنا بھی موجبِ برکت ہے، لیکن نجاست زائل کرنے کے لیے اس کو استعمال کرنا درست نہیں۔

 

يكره الاستنجاء بماء زمزم لا الاغتسال (قوله يكره الاستنجاء بماء زمزم) ازالة النجاسة الحقيقية من ثوبه أو بدنه حتى ذكربعض العلماء تحريم ذلك. (رد المحتار على الدر المختار، باب الھدی، مطلب في الاستنجاء بماء زمزم، ج: 2، ص: 625)


فتویٰ نمبر : 10838/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں