بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

آن لائن خریداری میں اضافی چیزکاآجانا


سوال

ایک شخص نےآن لائن ایک سوٹ خریدا،مگر پیکٹ میں دو ایک جیسے سوٹ آگئے۔اس نے سیلر(بائع) کو اطلاع دی کہ اس میں دو سوٹ ہیں جب کہ پیمنٹ صرف ایک کی ہوئی تھی۔ سیلر نے پوچھا کہ کیا اسی پیکٹ  میں دو تھے ، اس شخص نے جواب دیا:ہاں اورخریدار نےبائع سےیہ بھی پوچھاکہ اضافی سوٹ  کو واپس بھیج دوں۔اس کے بعد سیلر نے کوئی جواب نہیں دیا اور اس بات کو چار پانچ مہینے ہوگئے ہیں۔اب جب  کہ اس نے بیچنے والے کو اطلاع دے دی مگر بیچنے والے نے جواب نہیں دیا، اور چار پانچ مہینے گزر گئے ،تو اب وہ شخص اس اضافی سوٹ کا کیا کرے؟

جواب

بائع ومشتری دورانِ عقد جس چیزکی بیع پرمتفق ہوجائیں،وہی چیز مبیع شمارہوگی اوروہی بائع کےذمےلازم ہوگی۔تاہم جوزیادتی مبیع میں پائی جائےتومشتری کےپاس یہ اضافی چیزامانت متصورہوگی،جس کالوٹاناواجب ہے۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق اگریہ اضافی سوٹ سیلر(بیچنے والے) کی طرف سےمحض غلطی سے بھیجاگیا ہوتویہ اضافی سوٹ خریدارکےہاتھ میں امانت ہوگا،اس کے مالک کی طرف سے ہبہ کردینےیابیچ دینےکےبغیر اس میں کوئی تصرف جائز نہیں ۔اس لیے اس کے ساتھ دوبارہ رابطہ کرکےاس کوواپس بھیج دیا جائے یا خرید لیا جائےیایہ کہ وہ ہبہ کردےتوتب اس کااستعمال جائزہوجائےگا۔

 

وأما إذا غاب رب الوديعة، ولا يدرى: أحي هو أو ميت، فعليه أن يمسكها حتى يعلم بموته؛ لأنه التزم حفظها له، فعليه الوفاء بما التزم، كما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول فی العهود: وفاء لا غدر فيه. بخلاف اللقطة فإن مالكهاغيرمعلوم عنده، فبعدالتعريف: التصدق بها طريق لا يصلها إليه،وهنا مالكها معلوم، فطريق إيصالها الحفظ إلی أن يحضر المالك، أو يتبين موته فيطلب وارثه ويدفعهاإليه. (المبسوط للسرخسي،كتاب الوديعة،  ج:11، ص:129)

وإن زاد شئء علیہ فھو للبائع؛لأن البیع وقع علی مقدار معین. (البحرالرائق، كتاب البيع، ج:5، ص:311)

غاب المودع ولا يدري حياته ولا مماته يحفظهاأبداًحتی يعلم بموته وورثته، كذا فی الوجيز للكردري ولا يتصدق بها بخلاف اللقطةكذا فی الفتاوی العتابية. (الفتاوی الھندية، كتاب الوديعة، الباب السابع في ردالوديعة،  ج:4، ص: 354)


فتویٰ نمبر : 3996/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں