بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قتلِ عمدکی صورت میں مقتول کےبعض ورثا کا قاتل کو معاف کرنا


سوال

ایک شخص نے اپنی بہن کو قتل کیا،مقتولہ نے اپنے ورثا میں شوہر اور ماں،باپ چھوڑے ہیں۔اب معلوم یہ کرنا ہے کہ مقتولہ کے شوہر نے قاتل کو معاف کیا اور مقتولہ کے والدین اور مقتولہ کے شوہر کے درمیان راضی نامہ ہوگیا،تو کیا مقتولہ کے بہن بھائی کو قاتل کی سزا  کے مطالبہ کا اختیار ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جن افراد کے لیے مقتول کی میراث میں اللہ تعالی کی طرف سے حصہ مقرر ہے، ان  جملہ ورثاکومقتول کے قصاص کا اجتماعی حق حاصل ہے،خواہ مرد ہوں یاعورت،لہذا ان مستحقینِ قصاص میں سے اگر کوئی ایک شخص بھی قصاص کو معاف کردے،تو دوسرے ورثاکو قصاص لینے کا حق نہیں ہوگا۔

صورتِ مسؤلہ کے مطابق اگر  مقتولہ کے ورثا میں سے اس کا شوہر اور  ماں،باپ قاتل کو معاف کرےتو یہ معافی معتبر ہوگی اور باپ کی موجودگی کی وجہ سے چونکہ اس   کے بہن بھائی اس کے ورثا  نہیں اس لیے ان کو سزا کے مطالبہ کا اختیار نہیں۔

 

قال الله تعالى﴿فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴾.(سورةالبقرة:178)

‌ويستحق ‌القصاص ‌من ‌يستحق ميراثه على فرائض الله-تعالى-فيدخل فيه الزوج والزوجة وكذاالدية.(الفتاوى الهندية،كتاب الجنايات،الباب الثالث:فيمن يستوفي القصاص،ج:6،ص:11)

إن صالح أحدالشركاء من نصیبه على عوض أو عفا،سقط حق الباقيين عن القصاص.(الفتاوی الهندية،كتاب الجنايات،الباب السادس:فى الصلح والعفووالشهادةفيه،ج:6،ص:26)


فتویٰ نمبر : 6564/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں