بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 09/09/2026 |
دارالافتاء
صرف کلمہ پڑھنے سے قسم کا حکم
سوال
اگر کوئی شخص صرف کلمہ پڑھ کر یہ الفاظ کہے کہ "میں یہ کام نہیں کروں گا" کیا اس سے قسم منعقد ہوجاتی ہے یا نہیں اور اس پر کفارہ لازم ہوگا یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ کلمہ پڑھنا بذاتِ خود قسم نہیں ہے، البتہ اس کے قسم بننے میں نیت اور ارادے کا اعتبار ہے، لہذا قسم کی نیت سے کلمہ پڑھ کر قسم کھائی جائے تو قسم منعقد ہوجاتی ہے، اور جہاں کلمہ پڑھ کر قسم کھانے کا عرف عام ہو تو وہاں بغیر نیت قسم ہوجائے گی۔
لہذا صورتِ مسئولہ کےمطابق اگر کوئی شخص صرف کلمہ پڑھ کریہ الفاظ کہے"میں یہ کام نہیں کروں گا" اور اس کی نیت قسم کی ہو یا عرف میں اِسے قسم کے طور پر استعمال کیا جاتا ہو، تو اس صورت میں قسم منعقد ہوجائے گی، اس لیے اس کے بعد اگر وہ کام کرے گا، تو وہ اپنے قسم میں حانث ہوجائے گا، اور اس پر قسم کا کفارہ لازم ہوگا ۔
(قوله وسبحان الله إلخ)قال في البحر:ولو قال لا إله إلا الله لا أفعل كذا لا يكون يمينا إلا أن ينوي،وكذاقوله" سبحان الله والله أكبر"لا أفعل كذا لعدم العادة.قلت:ولو قال:الله الوكيل لا أفعل كذا ينبغي أن يكون يمينا في زماننا لأنه مثل الله أكبر لكنه متعارف(قوله لعدم العرف)قال في البحر:والعرف معتبرفي الحلف بالصفات.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الأيمان،ج:3،ص:715)
ومنعقدة،وهوأن يحلف على أمرفي المستقبل أن يفعله، أو لا يفعله، وحكمها لزوم الكفارة عندالحنث كذا في الكافي....ولو قال:لا إله إلا الله لأفعلن كذا فليس بيمين إلا أن ينوي يمينا،وكذلك سبحان الله،والله أكبر لأفعلن كذا،كذافي السراج الوهاج.(الفتاوی الهندية،كتاب الأيمان،الباب الثاني فيمايكون يميناومالايكون يمينا،الفصل الأول،ج:2،ص:55)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں