بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نان نفقہ اور حقوق ادا نہ کرنے کی وجہ سے عدالتی تنسیخِ نکاح


سوال

ایک عورت کی شادی ہوئی لیکن شادی کے بعد شوہر اور بیوی کی آپس میں موافقت نہیں رہی  کیونکہ بیوی کا کہنا ہے کہ شوہر نہ میری ضروریات اور اخراجات پوری کرتا ہے اور نہ ہی میرے نان نفقہ اور سکنیٰ کا خیال رکھتا ہے۔میرے ساتھ ظالمانہ سلوک اور رویہ رکھتا ہے،یہاں تک کہ گھر سے بھی نکال دیااس بنا پر  عورت نے عدالت میں کیس دائر کیا،تو عدالت نے شوہرکو بار بار طلب کیا اور نوٹس بھی ارسال کیے جو کہ لڑکے یعنی شوہر نے وصول کئے لیکن قصداً عمداًشوہرعدالت حاضر نہ ہواتو عدالت نے تمام گواہوں کی موجودگی میں  عورت کے نکاح کو ختم کردیا ۔اس کے بعد نوسال گزرے لیکن شوہر نے نہ پوچھا نہ ہی عورت کی طرف رجوع کیا ۔اب کیا یہ علیحدگی  موثر ہوگی یا نہیں ،اور یہ عورت کسی دوسرے شخص سے نکاح کرسکتی ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ میاں بیوی کے ازدواجی تعلقات قائم ہونے کے بعد اگر شوہر باوجود قدرت کے بیوی کے حقوق اور نان نفقہ کی ادائیگی سے انکار کرے جس کی وجہ سے عورت کے لیے خاوند کے ساتھ زندگی گزارنا مشکل ہو جائے  تو ایسی صورت میں اصل حکم تو یہ ہے کہ عورت شوہر کو طلاق یا خلع پر راضی کر کے اس سے چھٹکارا حاصل کرے تاہم اگر شوہر نہ حقوق ادا کر رہا ہو اور نہ ہی طلاق یا خلع پر راضی ہوتا ہو تو ایسی صورت میں یہ شوہر متعنت کہلاتا ہے،  اور متعنت کی بیوی کو مسلمان حاکم يا عدالت کی طرف رجوع کرنے کا حق حاصل ہے ، بشرطیکہ عورت عزت و آبرو کا لحاظ رکھتے ہوئے کسب معاش پر قدرت نہ رکھتی ہو، یا نفقہ کی قدرت توہو، لیکن شوہر سے علیحدہ رہنے کی صورت میں گناہ میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہو ، تو  ایسی صورت میں عدالت مکمل تحقیق کرے اگر عورت شوہر کے ظلم وستم کو ثابت کرے تو عدالت شوہر کو حکم دے کہ یا تو بیوی کو صحیح طریقے سے آباد کرے یا طلاق دے دے۔ اگر وہ صحیح طریقے سے بیوی کو اپنے پاس رکھنے پر آمادہ ہو جائے تو ٹھیک اور اگر انکار کرے یا عدالت کا نوٹس اور سمن ملنے کے باوجود عدالت میں شوہر یا اس کا وکیل حاضر نہ ہو اور بیوی بہر صورت اس کی زوجیت سے نكلنا چاہتی ہو تو تب عدالت عورت کو تنسیخ نکاح کی ڈگری دے سکتی ہے ، اور یہ تنسیخ شرعاًمعتبر ہوگی اور عدت گزرنے کے بعد یہ عورت دوسری جگہ نکا ح کر سکتی ہے۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر مذکورہ عورت کی طرف سے عدالت میں دائر کردہ درخواست اور عدالتی فیصلہ میں ذکر شده تفصیلات حقیقت پر مبنی ہوں یعنی واقعی شوہر اس پر ظلم  کرتا رہا ہو اور نان نفقہ بھی نہیں دیتا ہو ۔ نیز نوٹس ملنے کے باوجود  بغیر عذر  کے عدالت میں کیس کی پیروی نہ کی ہو تو ایسی صورت میں عدالت کا فسخِ  نکاح کا فیصلہ شرعاً معتبر ہےاور یہ عورت دوسری جگہ شادی کرسکتی ہے۔

 

وأماالمتعنت الممتنع عن الإنفاق،ففي مجموع الأميرمانصه:إن منعهانفقةالحال،فلها القيام،فإن لم يثبت عسره أنفق،أوطلق،وإلاطلق عليه قال محشيه:(وإلاطلق)أي عليه الحاكم من غيرتلوم.(الحيلة الناجزة، ص:133)


فتویٰ نمبر : 7335/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں