بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 09/09/2026 |
دارالافتاء
طلاق كنائی کو شرط کے ساتھ معلق کرنا
سوال
میری بیوی میرے ماموں کی بیٹی ہے۔ کچھ وقت پہلے گاؤں میں میری امی کی زمین کے سلسلے میں میرے سسر (جو میری امی کے بھائی ہیں) وہ زمین دینے میں مسئلہ کررہا تھا تو اس وقت میں غصّے میں تھا اور میں نے اپنی بیوی سے یوں کہا: "اگر تمہارے ابو نے دوبارہ زمین پر رولا ڈالا تو میں نے اگر اسے گولی ماری تو پھر ہمارا رشتہ بھی ختم ہوگا۔ اب وہ زمین کا مسئلہ مکمل طور پر حل ہو چکا ہے، کوئی لڑائی یا جھگڑا نہیں ہوا مکمل امن سے اور رضامندی سے زمین کا مسئلہ حل ہوگیا ہے اب مجھے وہم اور وسوسہ دوبارہ اس بارے میں شروع ہوگیا ہے اس الفاظ کے بارے میں جو یہ ہے (اگر تمہارے ابو نے دوبارہ زمین پر رولا ڈالا تو میں نے اگر اسے گولی ماری تو پھر ہمارا رشتہ بھی ختم ہوگا) تو یہ تو شرطیہ کنایہ الفاظ تھے، جس کے لئے نیت اگرطلاق کی ہو تو طلاق واقع ہوگی، ورنہ اگر طلاق کی نیت نہ ہو تو طلاق واقع نہ ہوگی اور مجھے تو یاد بھی نہیں ہے کہ اس وقت نیت کیا تھی۔ تو اب یہ پوچھنا تھا کہ وہ مسئلہ تو حل ہوگیا ہے نہ لڑائی ہوئی اورنہ جھگڑاہوا تو اس سے تو طلاق واقع نہیں ہوئی ہوگی؟
جواب
اگر طلاق کسی شرط کے ساتھ معلق کی جائے ،تو جب تک شرط واقع نہ ہو ئی ہو ،تو طلاق واقع نہیں ہوگی ۔
صورت مسؤلہ میں سائل نے کنائی الفاظ(ہمارا رشتہ بھی ختم ہوگا) کوشرط (اگر تیرے ابونے زمین پر رولا ڈالا اور میں نے اسے گولی ماردی) کے ساتھ معلق کیاتھا۔چونکہ مسئلہ باہمی رضا مندی اور بغیر کسی لڑائی کے حل ہو ا،اس لیے شرط نہیں پائی گئی لہذا کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔
وإذاأضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا۔(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الطلاق،الباب الرابع،ج:1،ص:420)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں