بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

حجام اور امام ابو حنیفہ ؒ کے واقعہ کی تحقیق


سوال

ایک بزرگ نے بیان میں فرمایا کہ امام ابو حنیفہؒ حج سے واپس آئے تو انہوں نے بتایا کہ ان سے مناسکِ حج میں پانچ غلطیاں ہوئیں اور یہ سب غلطیاں ایک نائی نے درست کروائیں۔ بزرگ کے مطابق امام صاحب نے نائی سے سر مونڈوانے کی قیمت پوچھی تو اس نے کہا کہ مناسک میں بھاؤ تاؤ درست نہیں؛ پھر نائی نے انہیں قبلہ رُخ بیٹھنے، دائیں جانب سے حلق شروع کرنے، حلق کے دوران تکبیرات پڑھنے، اور حلق کے بعد دو رکعت نفل پڑھنے کی تلقین کی۔ پوچھنے پر نائی نے بتایا کہ وہ حضرت عطاء بن ابی رباحؒ کے درس میں شریک رہا ہے۔ درج ذیل امور کی شرعی حیثیت وضاحت طلب ہے: 1. کیا مناسکِ حج کے دوران حلق کی اجرت پہلے سے طے کرنا جائز ہے؟ 2. کیا حلق کے وقت قبلہ رخ بیٹھنا اور دائیں جانب سے شروع کرنا سنت ہے؟ 3. کیا حلق کے دوران تکبیرات یا ذکر پڑھنے کی کوئی اصل ہے؟ 4. کیا حلق کے بعد دو رکعت ادا کرنا مسنون یا مستحب ہے؟ 5. کیا امام ابو حنیفہؒ اور نائی والا واقعہ معتبر کتب میں ثابت ہے؟ برائے مہربانی مکمل رہنمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ حجام سے حلق کرانا عقدِ اجارہ ہے اور عقدِ اجارہ میں اجرت پہلے سے طے کرنا لازم ہے لہذا مناسک حج کے دوران حلق کی اجرت پہلے سے طے کرنا لازم ہے، اسی طرح حلق کے وقت قبلہ رخ بیٹھنا، حالق کے دائیں جانب اور محلوق کے بائیں جانب سے شروع کرنے کو بھی فقہائے کرام نے سنت لکھا ہے، اورحلق کے دوران  تکبیر اور دعا کو مستحب لکھا ہے جبکہ حلق کے بعد دو رکعت ادا کرنا کسی روایت میں منقول نہیں، نیز علامہ انور شاہ کشمیریؒ فرماتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ ؒ سے منسوب حجام کے واقعہ کی کوئی اصل نہیں ۔

 

ولا تصح حتی تكون المنافع معلومة والأجرة معلومة. (مختصر القدوري، كتاب الإجاره، ص: 101)

ويعتبر في سنة الحلق الإبتداء بيمين الحالق لاالمحلوق ويبدأ بشقه الأيسر كذا في فتح القدير... ويستحب دفن شعره والدعا عند الحلق و بعد الفراغ مع التكبير. (الفتاوی الهندية، كتاب الحج، جلد:1، ص: 231)

ونسب إلى أبي حنيفة أن يبدأ من اليسار، وهذه الرواية عن أبي حنيفة أخذها النووي واعترض على أبي حنيفة وقال: إنه خالف النص، ونقل بعض من يتصدى إلى الطعن في حق أبي حنيفة حكاية؛ وهي أن أبا حنيفة لما ذهب حاجاً ففرغ عن حجته وأراد الحلق فاستدبر القبلة، قال الحالق: استقبلها، ثم بدأ أبو حنيفة باليسار، قال الحالق: ابدأ باليمين ثم بعد الحلق أخذ أبو حنيفة أن يقوم وما دفن الأشعار، قال الحالق: ادفنها فقال أبو حنيفة: أخذت ثلاثة مسائل من الحالق، أقول: إن هذه الحكاية ثبوتها لا يعلم. (العرف الشذي، جلد:2، ص:271)


فتویٰ نمبر : 10935/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں