بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

مشترکہ مکان میں اپنی ذاتی رقم سے تعمیر کرانے کے بعد تقسیم


سوال

ہم چار (4) بھائی، دو (2) بہنیں اور ایک والدہ ہیں۔ ہمارے والد صاحب کا انتقال ہو چکا ہے۔ مرحوم کے نام ڈھائی مرلے کا ایک مکان تھا، جسے فروخت کر کے ہم چاروں بھائیوں نے والدہ اور بہنوں کی اجازت سے پانچ مرلے کی ایک جگہ خریدی۔ اس جگہ کی قیمت چالیس (40) لاکھ روپے ہے۔بعد ازاں اسی جگہ پر مکان تعمیر کیا گیا، جس پر صرف چاروں بھائیوں نے اپنی ذاتی رقم سے پینتالیس (45) لاکھ روپے خرچ کیے، جبکہ والدہ اور بہنوں نے تعمیر میں کوئی رقم شامل نہیں کی۔اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ:کیا اس جائیداد کی تقسیم صرف چالیس (40) لاکھ روپے (یعنی زمین کی قیمت) کے اعتبار سے ہوگی، یا پچاسی (85) لاکھ روپے (زمین اور تعمیر دونوں) کے حساب سے میراث تقسیم کی جائے گی؟

جواب

 

واضح رہے کہ کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کے ترکہ میں تمام شرعی ورثاء اپنے مقررہ شرعی حصص کے مطابق حق دار ہوتے ہیں۔ نیز اگر کوئی وارث اپنی ذاتی آمدنی سے مشترکہ جائیداد میں تعمیر یا اضافہ کرے، اور اس میں دیگر ورثاء کی رقم شامل نہ ہو، تو ایسی تعمیر اس وارث کی   ذاتی ملکیت شمار ہوتی ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں زمین تمام ورثاء کے درمیان شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوگی۔ البتہ تعمیر اگر واقعتا صرف چار بھائیوں نے اپنی ذاتی رقم سے کروائی ہے، تووہ انہی کی ملکیت ہوگی، والدہ اور بہنیں اس میں حق دار نہیں ہوں گی۔

 

بنى أحدهما أي أحد الشريكين بغير إذن الآخر في عقار مشترك بينهما فطلب شريكه رفع بنائه قسم العقار فإن وقع البناء في نصيب الباني فبها ونعمت وإلا هدم البناء قوله بغير إذن الآخر وكذا لو بإذنه لنفسه لأنه مستعير لحصة الآخر، وللمعير الرجوع متى شاء. أما لو بإذنه للشركة يرجع بحصته عليه بلا شبهة رملي على الأشباه.(ردالمحتار علی الدر المختار، كتاب القسمة، مطلب لكل من الشركاء السكنى في بعض الدار بقدر حصته، ج:6، ص:268)


فتویٰ نمبر : 6600/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں