بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

جنگی حالات میں کفار کی مدد کرنا


سوال

کفار و مشرکین کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف جاری جنگ میں ان کی کسی بھی قسم کی مدد کرنے کا شرعی حکم کیا ہے؟ (الف) کیا یہ ہر حال میں کفر و ارتداد ہے؟ (ب) یا بعض صورتوں میں کفر ہے اور بعض میں نہیں؟ اگر دوسری صورت درست ہو تو کن کن صورتوں میں یہ کفر ہے اور کن کن میں نہیں؟ ٢. اگر یہ ہر حال میں یا بعض صورتوں میں کفر ہو تو اس کے کفر ہونے کی وجہ کیا ہے؟ کیا وہ خود مدد کرنا ہے یا کوئی اور سبب کی وجہ سے؟ مندرجہ بالا دونوں سوالات کا دلائل کے ساتھ مفصل اور واضح جواب عنایت فرما کر مشکور فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ شریعت مطہرہ میں مسلمانوں کے خلاف کفار و مشرکین کی مدد کرنے سے منع کیا گیا ہے، مدد چاہے مالی ہو یا بدنی،خصوصاً جب کفار و مشرکین مسلمانوں کے ساتھ جنگ کی حالت میں ہوں، اس ممانعت کے باوجود اگر کوئی آدمی مسلمانوں کے خلاف مشرکین کی مدد  کرتا ہو تو وہ گناہگار ہوگا، لیکن اگر وہ اعتقادی طور پر کفار کے ساتھ ہو اورکفار کو اس جنگ میں حق پر سمجھتا ہو، اور مسلمانوں کے خلاف ان کی مدد کرتا ہو تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے، کیونکہ مسلمانوں کے خلاف کفار و مشرکین کی مدد کرنا حرام ہے، اور حرام کے حلال ہونے کا اعتقاد رکھنا سبب کفر ہے۔

 

قال الله تعالی: ﴿وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ﴾ (مائده، آيت:51)

 (ويكره) تحريما (بيع السلاح من أهل الفتنة إن علم) لأنه إعانة على المعصية (وبيع ما يتخذ منه كالحديد) ونحوه يكره لأهل الحرب (لا) لأهل البغي لعدم تفرغهم لعمله سلاحا لقرب زوالهم، بخلاف أهل الحرب زيلعي. (ردالمحتار علی المختار، كتاب الجهاد، باب البغاة، جلد:4، ص:268)

من اعتقد الحرام حلالا أو على القلب يكفر.( ردالمحتار علی الدر المختار، جلد:1، ص:279)


فتویٰ نمبر : 6667/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں