بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

وقف شدہ عمارت کی اشیا کی مرمت کی ذمہ داری


سوال

اگرمدرسے کےلیے وقف عمارت ایک باربن جائےاور کسی استاد کواس میں مفت رہائش دی جائے،توگھرکےاندرجوچیزیں ان کی اپنی غلطی سےخراب ہوجائيں یامرمت کےقابل ہوجائيں تواس کومدرسےکےوقف مال سےصحیح کیا جاسکتا ہےیانہیں؟

جواب

واضح رہے کہ کسی مدرسے کی طرف سے اساتذہ یا ملازمین کوجو گھردیئےجاتےہیں ان میں اگرکوئی چیزان کی اپنی غلطی سے خراب ہوجائےتواس کی مرمت مدرسے کے وقف مال سےکرنےیادیگراموال سے کرنےکافیصلہ مدرسے کےقانون اوردستورکےمطابق کیا جائے گا اوراگراس مدرسےکادستورنہ ہوتوپھرکسی قریبی بڑےاورمعتمد مدرسے کے دستورکےمطابق عمل کیا جاسکتاہے۔

لہٰذا صورت مسئولہ کے مطابق اگرمدرسے کے وقف عمارت میں کسی استاد کو مفت رہائش دی جائےتو ان سے جوچیزیں اس گھرکےاندرخراب ہوجائیں توان کی مرمت کافیصلہ مدرسے کےدستوراور قانون کےمطابق کیاجائےگا اوراگراس مدرسےکادستورنہ ہوتو پھرکسی قریبی بڑےاور معتمد مدرسےکےدستورکےمطابق عمل کیا جاسکتاہے۔

 

 (ويبدأ ‌من ‌غلته ‌بعمارته) ثم ما هو أقرب لعمارته كإمام مسجد ومدرس مدرسة يعطون بقدر كفايتهم.(الدرالمختارشرح تنويرالأبصار، كتاب الوقف، ص:372)

ثم ما هو أقرب إلى ‌العمارة، ‌وأعم للمصلحة كالإمام للمسجد، والمدرس للمدرسة يصرف إليهم إلى قدر كفايتهم، ثم السراج والبساط كذلك إلى آخر المصالح.(ردالمحتار مع الدرالمختار، كتاب الوقف، مطلب في وقف المنقول قصدا، ج:4، ص:367)

‌المعروف ‌عرفا كالمشروط شرعا.(الأشباه والنظائر، المبحث الثالث: العادة المطردة هل تنزل منزلة الشرط؟،ص: 84)


فتویٰ نمبر : 6584/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں