بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بدکرداربیوی کوطلاق دینا


سوال

اگرکسی شوہرکواپنی بیوی کےبد کردار(بدفعل)ہونے کا یقینی علم ہوتواس شوہرکواس بیوی کے متعلق شریعت کاکیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کسی شخص کی بیوی فاجرہ ہوتواسے چاہیئےکہ اس کی اصلاح کی بھرپورکوشش کرے،اگراس کی اصلاح ہوگئی توبہتر،ورنہ اگرباربارسمجھانے سے بھی کام نہ بنے اوراس کے ہونے سے گھر کے ماحول اوربچوں پرمنفی اثرات پڑنےکاقوی اندیشہ ہواوراصلاح کی امید نہ ہوتوپھرشوہربیوی کوطلاق دےکرباپ کے گھربھیج سکتا ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگرشوہرکواپنی بیوی کے فاجرہ ہونے کا یقین ہوتواصلاح کی بھرپورکوشش کرے اگراس کی اصلاح ہوگئی توبہتر،ورنہ اگراصلاح کی امید ختم ہوگئی ہواوراس کوپاس رکھنے سے گھر کےماحول اوربچوں پرمنفی اثرات پڑنےکاقوی اندیشہ ہوتوپھرطلاق دیناہی بہترہے۔تاہم بغیرمعتمد ذرائع کےصرف سنی سنائی باتوں پراعتماد کرکے بیوی کے کردارپرسوال اٹھانادانشمندی کاتقاضا نہیں۔

 

لا يجب على الزوج ‌تطليق ‌الفاجرة ولا عليها تسريح الفاجر إلا إذا خافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس أن يتفرقا. (البحرالرائق، كتاب النكاح، فصل في المحرمات في النكاح، ج:3، ص:98)

(قوله لا يجب على الزوج ‌تطليق ‌الفاجرة) ولا عليها تسريح الفاجر إلا إذا خافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس أن يتفرقا اهـ مجتبى والفجور يعم الزنا وغيره وقد «قال صلى الله عليه وسلم لمن زوجته لا ترد يد لامس وقد قال إني أحبها: استمتع بها».(ردالمحتار مع الدر المختار، ‌‌كتاب الحظر والإباحة، ج:2، ص:427)

وقد تقرر أن نكاح المزنية ‌ووطأها جائز بلا استبراء عند أبي حنيفة وأبي يوسف.(دررالحكام شرح غرر الأحكام، كتاب الكراهية والاستحسان، ج:1، ص:315)

له ‌امرأة ‌فاسقة ‌لا ‌تنزجر ‌بالزجر ‌لا ‌يجب تطليقها كذا في القنية.(الفتاوی الهندية، كتاب الكراهية، الباب الثلاثون في المتفرقات، ج:5، ص:372)


فتویٰ نمبر : 7336/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں