بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

شوہر کے فوت ہونے کے بعد اس کی مادہ منویہ کو رحم میں ڈال کر بچہ جننا


سوال

اگر کوئی عورت شوہر کے فوت ہونے کے کچھ عرصہ بعد اس کا منجمد شدہ سپرم (مادہ منویہ) ڈاکٹری طریقہ کار سے رحم میں ڈال کر بچہ جن دیا، ایسے بچے کے نسب کا کیا حکم ہے اور کیا یہ طریقہ کار جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ شوہر کے انتقال کے بعد رشتہ زوجیت ختم ہوجاتا ہے ؛اس لیے شوہر کے انتقال کے بعد بیوی کا اپنے مرحوم شوہر کی منی کو اپنے رحم میں داخل کرنایا کرانا جائز نہیں، نيز یہ استقرار حمل کا غیر فطری طریقہ ہونے کی وجہ سے بھی مذموم ہے ۔ جہاں تک ثبوت نسب کا تعلق ہے تو اگر عورت نے عدت گزرنے کا اقرار نہ کیا ہو اور بچہ شوہر کی وفات کے بعد دو سال سے کم عرصے میں پیدا ہوجائے تو اس بچے کا نسب اس متوفی شوہر سے ثابت ہوگا اور بچہ جننے کے ساتھ عورت کی عدت بھی مکمل ہو جائے گی۔ اور اگر بچہ مرحوم شوہر کی وفات کے دو سال بعد یا اس سے زیادہ وقت کے بعد پیدا ہوجائے تو ایسے بچے کا نسب اس مرحوم شوہر سے ثابت نہ ہوگا۔ اور اگر عورت نے شوہر کی وفات کے بعد عدت ختم ہو جانے کا  اقرار کیا اور اس کے چھ ماہ بعد بچہ پیدا ہوگیا تو اس کا نسب مرحوم شوہر سے ثابت نہ ہوگا۔

 

عن عائشة رضي الله عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم أنها قالت: الولد ‌للفراش وللعاهر الحجر. (صحيح البخاري، باب قول الموصي لوصية تعاهد ولدي، ج:4، ص: 4،  رقم الحدیث: 2745)

إذا عالج الرجل جاريته فيما دون الفرج فأنزل فأخذت الجارية ماءه في شيء فاستدخلته في فرجها في حدثان ذلك فعلقت الجارية وولدت فالولد ولده، والجارية أم ولد له اهـ فهذا الفرع يؤيد بحث صاحب البحر. اهـ. ح. قلت: ويؤيده أيضا إثباتهم العدة بخلوة المجبوب، وما ذاك إلا لتوهم العلوق منه بسحقه. (رد المحتار علی الدر المختار، باب العدۃ، فرع أدخلت منيه في فرجها هل تعتد، ج:3، ص:528)

ولومات عنہا قبل الدخول أوبعدہ ثم جاء ت بولد من وقت الوفاة الی سنتین یثبت النسب منہ ،وان جاء ت بہ لأکثر من سنتین من وقت الوفاة لا یثبت النسب․(الہندیة، کتاب الطلاق، الباب الخامس عشر في ثبوت النسب، ج:1، ص:589)

ويثبت نسب ولد معتدة الرجعي وإن ولدته لأكثر من سنتين ما لم تقر بمضي العدة وكانت رجعة في الأكثر منهما لا في الأقل منهما ) أي من السنتين لاحتمال العلوق في حالة العدة لجواز أنها تكون ممتدة الطهر فإن جاءت به لأقل من سنتين بانت من زوجها لانقضاء العدة وثبت نسبه لوجود العلوق في النكاح أو في العدة ولا يصير مراجعا لأنه يحتمل العلوق قبل الطلاق ويحتمل بعده فلا يصير مراجعا بالشك وإن جاءت به لأكثر من سنتين كانت رجعة لأن العلوق بعد الطلاق والظاهر أنه منه لانتفاء الزنا منها فيصير بالوطء مراجعا …. الخ (البحر الرائق، باب ثبوت النسب، ج:4، ص:170)


فتویٰ نمبر : 6568/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں