بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ایزی پیسہ یا بنک اکاؤنٹ کے ذریعہ مستحق زکوٰۃ کو زکوٰۃ کے پیسے بھجوانا


سوال

آج کل زیادہ تر کاروبار، لین دین بذریعہ ایزی پیسہ اکاؤنٹ یا بنک اکاؤنٹ کی جاتی ہے۔ جب کسی کے اکاؤنٹ میں رقم منتقل ہوگئی تو یہ رقم اسی کی ہوگئی چاہے وہ اکاؤنٹ میں رکھے یا نکال لے۔ اُس کے علاوہ کوئی بھی اس رقم کونکال نہیں سکتا یعنی یہ رقم اُس کی ملکیت ہے۔ اب مسئلہ یہ معلوم کرنا ہے کہ اگر کسی مستحق شخص کو زکوٰۃ کی ادائیگی ایزی پیسہ اکاؤنٹ یا بنک اکاؤنٹ کے ذریعے کی جائے اور وہ رقم اس شخص کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوجائے تو زکوٰۃ ادا ہوگئی یا جب تک وہ رقم اکاؤنٹ میں پڑی رہے زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے مستحقِ زکوٰۃ کو مالِ زکوٰۃ کا اس طرح مالک بنانا ضروری ہے، کہ وہ اس میں ہر قسم کا تصرف کرسکے۔

صورت مسئولہ کے مطابق ایزی پیسہ یا بینک اکاؤنٹ کے ذریعے رقم بھیجنے کی صورت میں وصول کرنے والے کا شرعا قبضہ تب شمار ہوگا، جب رقم اس کے اکاؤنٹ میں پہنچ جائے، اکاؤنٹ میں رقم آجانے کے بعد چونکہ رقم منتقل کرنے والے کا قبضہ اور تصرف کا اختیار مکمل طور پر ختم ہوجاتا ہے، اور جس کے اکاؤنٹ میں رقم منتقل ہوگئی ہے، وہ اس میں مالکانہ تصرفات کر سکتا ہے مثلا: وہ رقم کسی اور کو ٹرانسفر کرسکتا ہے، یا اس رقم سے خریداری کر سکتا ہے وغیرہ۔ اس لئے اکاؤنٹ میں رقم پہنچتے ہی زکوۃ ادا ہوجائے گی۔

 

وأما ركن الزكاة فركن الزكاة هو إخراج جزء من النصاب إلى الله تعالى، وتسليم ذلك إليه يقطع المالك يده عنه بتمليكه من الفقير وتسليمه إليه أو إلى يد من هو نائب عنه. وكذا لو دفع زكاة ماله إلى صبي فقير أو مجنون فقير وقبض له وليه أبوه أو جده أو وصيهما جاز؛ لأن الولي يملك قبض الصدقة عنه. وكذا لو قبض عنه بعض أقاربه وليس ثمة أقرب منه وهو في عياله يجوز، وكذا الأجنبي الذي هو في عياله؛ لأنه في معنى الولي في قبض الصدقة لكونه نفعا محضا ألا ترى أنه يملك قبض الهبة له؟، وكذا الملتقط إذا قبض الصدقة عن اللقيط؛ لأنه يملك القبض له فقد وجد تمليك الصدقة من الفقير. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب الزكاة، فصل ركن الزكاة، ج:2، ص:39)

إذا ‌دفع ‌الزكاة ‌إلى ‌الفقير ‌لا ‌يتم ‌الدفع ما لم يقبضها أو يقبضها للفقير من له ولاية عليه. (الفتاوی الھندیۃ، الباب السابع في المصارف، فصل مايوضع في بيت المال من الزكاة، ج:1، ص:190)


فتویٰ نمبر : 10839/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں