بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

قتلِ خطا میں کفارہ کا حکم


سوال

ایک شخص نے  ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے  غلطی سے فٹ پاتھ پر بیٹھے ہوئے دو اشخاص کو ٹکر ماردی۔ جس سے وہ موقع پر ہلاک ہوگئے۔ مقتولین کے ورثا سے صلح کے بعد اس شخص سے دیت ختم ہوگئی لیکن سوال یہ ہے کہ اس قاتل کو فی مقتول کے حساب سے الگ الگ کفارہ ادا کرنا ہوگا یا پھر کفارہ میں تداخل ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ کفارہ جنایت کی وجہ سے لازم ہوتا ہے،لہٰذا جتنے  جنایات زیادہ ہوں گے اس قدر کفارے لازم  ہوں گے۔اسی طرح قتل خطا بھی ایک جنایت ہے جو قاتل کے قصد کے بغیر واقع ہوتی ہے،چنانچہ قتل خطا کی صورت میں  جتنے جنایات زیادہ ہوں گے اس قدر کفارے لازم ہوں گے،لہذا ہر قتل کے بدلے الگ کفارہ دینا لازم ہوگا۔

 صورت مسئولہ کے مطابق ڈرائیور نے غلطی سے فٹ پاتھ پر دو اشخاص کو ٹکر ماردی ہے جس کی وجہ سے دونوں ہلاک ہوئے ہیں،جبکہ دیت باہم مصالحت سے معاف کردی گئی۔ اب  قاتل پر ہر  مقتول کے بدلے الگ الگ کفارہ دینا لازم ہوگا،چنانچہ ڈرائیور دو کفارے ادا کرے گا۔

 

في المنتقی: رجل ضرب بطن امرأتہ فألقت جنیناً حیًّا ثم مات، ثم ألقت جنیناً میِّتاً ثم ماتت الأم بعد ذلک، وللرجل الضارب بنون من غیر ہذہ المرأة، ولیس لہ ولد من ہذہ المرأة غیرہذا الذي ولدت عند الضربة، ولہا إخوة من أبیہا وأمہا، فعلی عاقلة الأب دیة الولد الذي وقع حیًّا ثم مات، ترث من ذلک أمہ السدس، ومابقي فلإخوة ہذا الولد من أبیہ، وعلی الأب کفارتان: کفارة فی الولد الواقع حیًّا، وکفارة في أمہ۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الجنايات، الباب العاشر في الجنين، ج:6، ص:43)

أم ولد بین رجلین کاتباہا، فقتلت أحد المولیین خطأً، فعلیہا الأقل من القیمة ومن الدیة؛ لأن جنایة المکاتبة علی مولاہا کجنایتہا علی أجنبي آخر، وقد جنت وہي مکاتبة، فعلیہا الأقل من قیمتہا ومن أرش الجنایة، فإن قتلت الآخر بعدہ فعلی عاقلتہا الدیة؛ لأنہا عتقت حین قتلت الأول منہما، علی اختلاف الأصلین؛ لأن عندہما وإن لزمہا السعایة في نصیب الآخر فالمستسعیٰ حر، وعند أبي حنیفة لاسعایة علی أم الولد لمولاہا فعرفنا أنہا قتلت الآخر منہما وہي حرة، وعلیہا کفارتان؛ لأن الکفارة بالقتل تجب علی المملوکة کما تجب علی الحر الخ (المبسوط لسرخسي، أواخر کتاب الجنایات، ج:27، ص:123/124)

وأما صفتہا (صفة کفارة الظہار) فہي عقوبةٌ وجوباً، لکونہا شرعت أجزیة لأفعال فیہا معنی الحظر، عبادةٌ أداءً، لکونہا تتأدی بالصوم والإعتاق والصدقة، وہي قرب، والغالب فیہا معنی العبادة إلا کفارة الفطر في رمضان، فإن جہة العقوبة فیہا غالبة، بدلیل أنہا تسقط بالشبہات کالحدود، ولا تجب مع الخطإ، بخلاف کفارة الیمین، لوجوبہا مع الخطإ، وکذا کفارة القتل الخطإ، وأما کفارة الظہار فقالوا: إن معنی العبادة فیہا غالب، وخالفہم صدر الشریعة في الأصول فجعلہا ککفارة الفطر: معنی العقوبة فیہا غالب لکونہ منکراً من القول وزوراً، وردہ في التلویح، بأنہ فاسد نقلا وحکماً واستدلالاً، أما الأول فلتصریحہم بخلافہ، وأما الثاني فلأن من حکم ما تکون العقوبة فیہ غالبة أن تسقط بالشبہة وتتداخل، ککفارة الصوم، حتی لو أفطر مراراً لم تلزمہ إلا کفارة واحدة، ولا تداخل في کفارة الظہار، حتی لو ظاہر من امرأتہ مراراً لزمہ بکل ظہار کفارة۔ (البحرالرائق، باب الظہار، فصل في الكفارة، ج:4، ص:169)

ولنا: إن التحریر أو الصوم في الخطإ إنما وجب شکراً للنعمة، حیث سلم لہ أعز الأشیاء إلیہ في الدنیا، وہو الحیاة مع جواز الموٴاخذة بالقصاص الخ (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب الجنايات، ج:6، ص:299)


فتویٰ نمبر : 6568/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں