بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

اسکول اسمبلی سےپہلے تلاوتِ قرآن چلانا


سوال

اقراء سکول میں اسمبلی سے پہلے ہال میں اسپیکر پر تلاوت لگائی جاتی ہے۔ نیت مندرجہ ذیل ہوتی ہے۔

1۔بچے لہجہ سیکھیں،2۔تاکہ معلوم ہو سکے کہ اسمبلی شروع ہونے والی ہے۔ اس دوران بچے باہر گھروں سے آ کر ہال میں جمع ہونا شروع ہو جاتے ہیں تلاوت لگی ہوتی ہے تو کوئی اپنا بیگ سنبھالتا ہے کوئی  کلاس میں ہوتا ہے بات چیت کی نوبت بھی آپس میں آتی ہے اساتذہ بھی  آکر ایک دوسرے سے سلام دعا کرتے ہیں اور نگران صاحب بچوں کو  کلاسز سے باہر اسمبلی کے لیے جمع کرتے ہیں تو پوچھنا یہ ہے  کہ ان حالات میں ہال میں تلاوت لگانے کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جب کوئی شخص تلاوت کررہاہو اور اس کی آواز دوسرے تک پہنچ رہی ہو  تو قرآن کریم کی تلاوت کا سننالازم  ہے،البتہ موبائل یاکیسٹ وغیرہ کی تلاوت کاوہ حکم نہیں جو براہ راست تلاوت کا ہے ۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق تلاوت سے اگر بچوں کا لہجہ سیکھنے کا مقصد ہو تو یہ نیت درست ہے۔لیکن دیگر مقاصد، مثلاً یہ اطلاع دينے كے ليےکہ اسمبلی شروع ہونے والی ہے درست نهيں ۔ یہ سب کام تلاوتِ قرآن کے دوران کرنا مناسب نہیں ہے۔

 

قال اللہ تعالى﴿وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ﴾ [الأعراف: 204] 

وعن حذيفة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌اقرؤوا ‌القرآن ‌بلحون ‌العرب وأصواتها وإياكم ولحون أهل العشق ولحون أهل الكتابين وسيجي بعدي قوم يرجعون بالقرآن ترجع الغناء والنوح لا يجاوز حناجرهم مفتونه قلوبهم وقلوب الذين يعجبهم شأنهم» . رواه البيهقي في شعب الإيمان۔( مشكاة المصابيح، باب آداب التلاوة ودروس القرآن ،الفصل الثالث،ج:1،ص:675،رقم الحديث:2207)


فتویٰ نمبر : 6566/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں