بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نماز کی ممانعت والے ادارے میں ملازمت کا حکم


سوال

ایک مسلمان شخص کسی غیر مسلم مالک کی کمپنی میں ملازمت کرتا ہے، اور وہاں مالک کی طرف سے نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی جاتی، تو کیا ایسے ادارے میں کام کرنا جائز ہے؟

جواب

ہر عاقل بالغ مسلمان پر پانچ وقت نماز ادا کرنا فرضِ عین ہے، اور نمازوقتِ مقررہ پر ادا نہ کرنا یابلاعذرچھوڑدینا گناہ کبیرہ ہے، اور ملازمت ایسا عذر نہیں کہ اس کی وجہ سے نماز معاف ہوجائے ۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق مالک سے بات چیت کرکے اسے نماز کی اجازت دینےپر آمادہ کیاجائے اور فرض نماز اور سنتِ مؤکدہ اورواجب کی ادائیگی کا وقت طلب کیاجائے، یا اسے کہہ دیاجائے کہ جتنا وقت نماز میں صرف ہوتاہے اتنے وقت کو ملازمت کے وقت سے منہاکردے اور اس کی تنخواہ کاٹ دے ۔ اگر مالک کسی صورت میں بھی نماز کی اجازت دینے پر راضی نہ ہو تو ایسے شخص کی کمپنی میں ملازمت جائز نہیں،مذکورہ ملازمت کی بجائے دوسری جگہ معاش کا ذریعہ تلاش کیاجائے۔

عن أبي سفيان قال: سمعت جابرا يقول:سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: "‌إن ‌بين ‌الرجل ‌وبين الشرك والكفر ترك الصلاة".».(صحيح مسلم،كتاب الإيمان،‌‌باب بيان إطلاق اسم الكفر على من ترك الصلاة،ج:1،ص:88 ،رقم الحديث:72)

عن عبد الله بن عمرو، عن النبي -صلي الله عليه وسلم -: أنه ذكر الصلاة يوما، فقال: "من حافظ عليها كانت له نورا وبرهانا ونجاة يوم القيامة، ومن لم يحافظ عليها لم يكن له نور ولا برهان ولا نجاة، ‌وكان ‌يوم ‌القيامة ‌مع ‌قارون وفرعون وهامان وأبي بن خلف".( مسند الإمام أحمد بن حنبل،مسند عبد الله بن عمرو بن العاص - رضي الله عنهما،ج:6 ،ص:150 ،،رقم الحديث: 6576)

 (قوله وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة وفي فتاوى سمرقند: وقد قال بعض مشايخنا له أن يؤدي السنة أيضا. واتفقوا أنه لا يؤدي نفلا وعليه الفتوى ۔(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الإجارة، مبحث الأجير الخاص، مطلب ليس للأجير الخاص أن يصلي النافلة، ج:6، ص:70(


فتویٰ نمبر : 3997/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں