بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

دولہا کے لیے موتیوں اور چاندی والا ہار پہننا


سوال

اگر کوئی  دولہا شادی کے موقع پرایساہار پہنے جس کی بناوٹ  میں موتیوں کےساتھ ساتھ چاندی کی بھی  کچھ مقدار پھولوں وغیرہ کی صورت میں پائی جاتی ہو تو دولہے کے لیے بلا کسی ضرورت کےشادی کے موقع پر اس طرح ہارپہننا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے   کہ مردوں کے لیے صرف چاندی کی انگھوٹی کا پہننا جائز ہے اور وہ بھی اس طور پر کہ اس کی مقدار ساڑھے چار ماشہ   یا اس سے کم ہو اس کے  علاوہ چاندی سے بناہواکسی بھی قسم کےزیورکا استعمال مردوں کے لیے جائز نہیں ۔

لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کوئی  دولہا شادی کے موقع پرایساہار پہنے جس کی بناوٹ  میں موتیوں کےساتھ ساتھ چاندی کی بھی  کچھ مقدار پھولوں وغیرہ کی صورت میں پائی جاتی ہو،تو اس کا استعمال کر نا شرعاجائز نہ ہو گا۔

 

روى الطحاوي بإسناده إلى عمران بن حصين وأبي هريرة قال: «نهى رسول الله - صلى الله تعالى عليه وسلم - عن خاتم الذهب» ، وروى صاحب السنن بإسناده إلى عبد الله بن بريدة عن أبيه: «أن رجلا جاء إلى النبي - صلى الله تعالى عليه وسلم - وعليه خاتم من شبه فقال له: مالي أجد منك ريح الأصنام فطرحه ثم جاء وعليه خاتم من حديد فقال: مالي أجد عليك حلية أهل النار فطرحه فقال: يا رسول الله من أي شيء أتخذه؟ قال: اتخذه من ورق ولا تتمه مثقالا» " فعلم أن التختم بالذهب والحديد والصفر حرام.(ردالمحتار على الدر المختار ،كتاب الحظر والاباحة ،فصل في اللبس، ج:9 ص:517)

 (ولا يتحلى) الرجل (بذهب وفضة) مطلقا (إلا بخاتم ومنطقة وحلية سيف منها) أي الفضة إذا لم يرد به التزين.(الدرالمختار شرح تنويرالأبصار،كتاب الحظروالإباحة،فصل فى اللبس،ج:6،ص:358،359)


فتویٰ نمبر : 6574/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں