بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ساده دف كےساتھ اتن کا حکم


سوال

آج کل اتن(کی ایک صورت رقص) جو صرف سادہ دف کیساتھ ہوجائزہے یا نہیں؟

 

جواب

واضح رہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ تہذیب وثقافت اورمعاشرتی اقدارایک قوم کاسرمایہ سمجھا جاتاہے جس کے ذریعےاقوام کی شناخت ہوتی ہےاسلام مطلقا کسی قومی ثقافت کی حوصلہ شکنی نہیں کرتاہے بلکہ بسااوقات عرف،ثقافت اورعلاقائی رواج پرشریعت کے احکام مرتب ہوتے ہیں لیکن اسلامی معاشرہ میں کسی ثقافت کوتحفظ دینا اس سے مشروط ہے کہ اس سے دینی اقدار کی پامالی نہ ہو اورنہ کسی شرعی ضابطہ کی مخالفت ہو۔ موجودہ دورمیں اتن کے نام سے جس ثقافت کا حوالہ دیاجاتاہے اس میں مرد وزن کے بےجا اختلاط ،رقص وسرود اورکئی دوسری خلاف شرع چیزوں کا مشاہدہ کیا جاتاہے جس کے جواز کےلیےعرف یا ثقافت کاسہارالینامشکل ہےاس میں خود کئی خرابیاں پائی جاتی ہیں اور کئی ایسی خرابیوں کا پیش ِخیمہ ہے جن کا تدارک مستقبل میں مشکل ہوگا نیزواضح رہے کہ پختون ثقافت، جوفلم اورتھیٹرمیں بے حیائی کی شکل میں دکھائی جاتی ہے اس کو خود پختون قوم اپنی غیرت کے منافی سمجھتی ہے۔ حیا،غیرت،ھمدردی،ایثاروقربانی پختون قوم کی ثقافت کا قابل قدرسرمایہ ہے۔  

 

عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌من ‌تشبه ‌بقوم فهو منهم. (سنن أبي داود،‌‌باب في لبس الشهرة،رقم الحديث:4031، ج:4، ص:43)

العادة عبارة عما يستقر في النفوس من الأمور المتكررة المقبولة عند الطباع السليمة.....، إنما تعتبر العادة إذا اطردت أو غلبت.....، ‌العرف ‌غير ‌معتبر في المنصوص عليه. (الأشباه و النظائرلابن نجيم، ‌‌القاعدة السادسة: العادة محكمة، ص:80)

وأما ‌الرقص والتصفيق والصريخ وضرب الأوتار والصنج والبوق الذي يفعله بعض من يدعي التصوف فإنه حرام بالإجماع لأنهازي الكفار.(حاشية الطحطاوي على مراقى الفلاح، ‌‌فصل: في صفة الأذكار، ص:319)

(قوله ومن يستحل الرقص قالوا بكفره) المراد به التمايل والخفض ‌والرفع ‌بحركات ‌موزونة. (ردالمحتار مع الدر المختار،مطلب المعصية تبقى بعد الردة، ج:4، ص:259 إن العرف معتبر إن كان عاما.(رسائل ابن عابدين، نشرالعرف في بناء بعض الأحكام على العرف، ج:2، ص:158)


فتویٰ نمبر : 6584/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں