بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
ہما نام رکھنا
سوال
میری بھتیجی کا نام ہما ( Huma) ہے، بعض لوگ ہمیں کہتے ہیں کہ یہ نام موزوں نہیں ہے، اس وجہ سے گھر والے یہ نام تبدیل کرنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس نام کے ہم مثل (باعتبار ادائیگی اور آواز کے) کوئی صحیح المعنی نام رکھا جائے ۔ آیا ہما نام واقعی مناسب نہیں ہے؟ یا اس کا معنی درست نہیں ہے؟ شرعی نقطہ نظر سے رہنمائی فرمائیں، اور صحابیات رضی اللّہ عنہن کے ناموں میں سے چند نام تجویز فرمائیں۔
جواب
واضح رہے کہ شریعت نے والدین کوبچے کے لیے اچھے اور عمدہ معنی کے نام رکھنے کی ترغیب دی ہے۔
صورتِ مسئولہ میں ہما سے مراد عقاب(ایک بڑا شکاری پرندہ، یعنی عقاب)ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ایک ایسا پرندہ ہے جس کے پروں سے اس کی عزت کی وجہ سے بادشاہ اپنے لیے تاج بناتے تھے۔ چونکہ ہما نام کا معنی درست ہے اس وجہ سے اس نام کا رکھنے کی گنجائش ہے۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ بچوں اور بچیوں کے نام صحابہ اور صحابیات کے ناموں پر رکھے جائیں ذیل میں چند صحابیات کے نام پیش کیےجاتے ہیں:خدیجہ، عائشہ، صفیہ، حفصہ، جویریہ، سودہ، حبیبہ، ام کلثوم، زینب، رقیہ، فاطمہ، اسماء، بریرہ، سلمی، ھالہ، خولہ، آمنہ، بسرہ، خنساء، رملہ، زنیرہ، نفیسہ، عاتکہ، لبیبہ، حولاء۔
التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عباده ولا ذكره رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه والأولى أن لا يفعل كذا في المحيط. (الفتاوى الهندية، الباب الثالث والعشرون في الغيبة والحسدوالنميمة والمدح، ج:5، ص:362)
(الهماء) العقاب وقيل طائر تتخذ الملوك من ريشه في تيجانهم لعزته (فارسية). (المعجم الوسيط، باب الھاء، ج:2، ص:996)
هماء: العقاب: طائر آخر تتخذ الملوك من ريشه تيجانهم لعزته. زعموا أن من وقع ظله عليه صار ملكا. (معجم متن اللغة، الباب ھ ، ج:5، ص667)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں