بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

کلالہ کی میراث اور وصیت کی ایک صورت


سوال

ایک عورت وفات پاچکی ہے ،اس سے  سونے کے دو کڑے ،ایک چین اور ایک   pedalاور کچھ پیسے رہ چکے ہیں،اس میں پیڈل کے بارے میں اس نے وصیت کی ہے ،کہ اس سے ٹاپس بنا کر فلاں فلاں کو دینا،اس کے علاوہ اس کے ورثا میں صرف بھائی کی اولاد( 3 بیٹے اور ایک بیٹی) اور ایک بھانجہ زندہ موجود ہے،اس عورت نے بیوہ  ہونے کے بعد ساری زندگی بھانجے کے ساتھ گزاری ، سوال یہ ہے (1)کہ اس عورت کی میراث میں کس کا حق ہے،بھتیجوں اور بھانجے سب کا ،یا صرف بھتیجوں کا ؟(2) وصیت کردہ پیڈل کے ساتھ چین بھی ہے ،تو وہ بھی وصیت میں شامل ہوکر ان دو موصی لہ کو ملے گا یا میراث کا حصہ ہوگا؟(3) سونا کے موجودہ زیورات کو اسی حالت میں ورثا کے درمیان تقسیم کیا جائے یا اس کی قیمت لگائی جائے؟

جواب

میـــــــــــــــــــــــــــ(3)ــــــــــــــــــــــــــــــت

    بھتیجا                    بھتیجا                     بھتیجا

      1                         1                           1

بشرط صدق وثبوت اگر مرحومہ کے مذکورہ بالا ورثا کے علاوہ  کوئی اور قریبی وارث زندہ موجود نہ ہو، تو حقوق متقدمہ علی الارث کی ادائیگی کے بعد مرحومہ کا ترکہ تین(3)حصوں میں تقسیم ہو کر تینوں بھتیجوں میں سے ہر ایک کوایک ایک حصہ ملےگا،جب کہ مرحومہ کی بھتیجی اور بھانجوں بھانجیوں کا میراث میں کوئی حق نہیں بنتا۔

نیز چین اگر پیڈل کا حصہ ہو تو وہ اس کے ساتھ شامل ہو گا،اور اگر پیڈل کا حصہ نہ ہو بلکہ الگ ہو تو پھر یہ وصیت کردہ پیڈل میں داخل نہیں ہوگا،تاہم اس میں یہ بات ملحوظ نظر رہے کہ وصیت صرف کل ترکہ کے  ایک تہائی میں نافذ ہوگا، تہائی سے اگر زائد ہو تو وہ ورثا کی اجازت پر موقوف رہے گا۔نیز زیورات کی قیمت لگائی جائے ،اور پھر اسی حساب سے زیورات کو تقسیم کر دیا جائے، جس کسی کو اپنے حصے سے زیادہ مل جائے ،وہ اسی کے بقدر پیسے لوٹادے اور جس کو کم مل جائے ،تو اس کو اس کی بقدر پیسے دے دیے جائیں۔

 

ثم ‌العصبات ‌بأنفسهم ‌أربعة ‌أصناف ‌جزء ‌الميت ‌ثم ‌أصله ‌ثم ‌جزء ‌أبيه ‌ثم ‌جزء ‌جده(ويقدم الأقرب فالأقرب منهم)بهذا الترتيب. (ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الفرائض،فصل في العصبات،ج:6،ص:774)

قلت:وفي إطلاقه نظر ظاهر لتصريحهم بأن ابن الأخ لا يعصب أخته،كالعم لا يعصب أخته وابن العم لا يعصب أخته وابن المعتق لا يعصب أخته،‌بل ‌المال ‌للذكر ‌دون ‌الأنثى لأنها من ذوي الأرحام.قال في الرحبية:وليس ابن الأخ بالمعصب من مثله أو فوقه في النسب. (الدرالمختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار،كتاب الفرائض،ص:765)

ذو الرحم:هو کل قریب،ليس بذي سهم،ولا عصبة،وکانت عامة الصحابة رضی الله عنهم يرون توريث ذوي الأرحام،وبه قال أصحابنا رحمهم الله...والصنف الثالث:ينتمي إلی أبوي الميت،وهم أولاد الأخوات.(السراجي في فن الميراث،باب ذوي الأرحام،ص:85)

وأن يكون أيضا الموصى به بقدر الثلث حتى أنها لا تصح فيما زاد على الثلث كذا في النهاية.( تكملة البحر الرائق للطوري،كتاب الوصايا،ج:8،ص:459)


فتویٰ نمبر : 3803/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں