بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ڈیجیٹل تصویر(فوٹو)اورویڈیوکی شرعی حیثیت


سوال

ڈیجیٹل تصویر(فوٹو)اورویڈیوکےبارےمیں قرآن،حدیث اورفقہ کےدلائل کی روشنی میں شرعی حکم جانناچاہتاہوں۔آج کل دینی محافل،جلسوں اورمدارس کے پروگراموں میں انہیں استعمال کیاجارہا ہے۔شرعی نقطہ نظرسےان کااستعمال جائزہےیانہیں؟کچھ لوگ کہتےہیں کہ علماءنےضرورت کےوقت جائزقراردیا ہےمیں پوچھناچاہتاہوں کہ اس ضرورت کامعیارکیاہےضرورت کس وقت ہےآج کل جوہورہاہےیہ واقعی ضرورت کےماتحت شامل ہےکیا ؟برائےمہربانی دارالافتاءسے مضبوط دلائل اورمستندحوالوں کےساتھ اِس فتویٰ کاجواب درکارہے۔

جواب

تصویرکی حقیقت میں ایک ایسی جامع تعریف پراعتمادمشکل ہےجوہردورمیں تصویرکی ہرروپ پرصادق آئے، بلکہ تصویرکی حقیقت کوعرف کےحوالےکرناہی مناسب ہے، گویااس کی حقیقت اجتہادی ہے۔ ہردورمیں تصویرکی بدلتی ہوئی شکلوں کےمطابق معاشرہ کےعمومی اطلاق اورعرف کوسامنےرکھتےہوئےتصویر ہونےیانہ ہونےکاحکم لگایاجائےگا۔

قرائن سےمعلوم ہوتاہےکہ ڈیجیٹل تصویر(فوٹو)تصویرہی کی جدیدقسم ہے۔ اس کوعکس کےمشابہ قراردےکرتصویرکےحکم سےخارج نہیں ماناجاسکتا، کیونکہ یہ بھی عرف کےحوالہ سےتصویرہی ہے۔ ویڈیوکیمرہ کےذریعےجوریکارڈنگ ہوتی ہے۔ یہ دراصل مسلسل تصاویرہوتی ہیں جوسکرین پرنمودارہوتی ہیں، اس لیے یہ بھی تصویرکےحکم میں داخل ہےاورتصویرکی ممانعت احادیث نبویہ اورفقہائےکرام کی تصریحات سےواضح ہے۔ اس لیےدینی محافل، جلسوں اورمدارس میں اس کےاستعمال سےاجتناب ضروری ہے۔ تاہم جہاں شخصی،ذاتی اورنجی ضروریات کومدنظررکھ کرپرنٹ تصویرحرمت کےباوجودقومی شناختی کارڈ، پاسپورٹ، کرنسی اوردیگراہم کاغذات میں جائزقراردیاجاتا ہے۔ اسی طرح معاشرتی اورعالمی حالات کومدنظررکھتےہوئےباطل پروپیگنڈےکی تردیداورحق کی آوازدنیاپہنچانےکےلیےالیکٹرانک میڈیاکےاستعمال کی اجازت دی جاسکتی ہےجوکہ ایک اجتماعی اہم ضرورت ہے۔ ہاں غیرشرعی مقاصداورفحاشی وعریانی پھیلانےکےلیےالیکٹرانک میڈیاکااستعمال قطعاًجائزنہیں۔

 

عن مسلم قال کنا مع مسروق في دار یساربن نمیر فرأی في صفتہ تماثیل فقال:سمعت عبداللہ سمعت النبی ﷺ یقول:

أشدالناس عذاباً عنداللہ یوم القیامۃ المصورون. (صحیح البخاری، کتاب اللباس، باب عذاب المصورین یوم القیامۃ،ج:5، ص:2220، رقم الحدیث:5606)

عن عائشہ رضی اللہ عنھا أن رسول اللہ ﷺ،قال: إن أصحاب ھذہ الصور یعذبون یوم القیامۃ ویقال لھم أحیوا ما خلقتم. (صحیح البخاری، کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالی(واللہ خلقکم وما تعملون)،ج:6، ص: 2747، رقم الحدیث:7118)

الضرورات تبیح المحظورات. (المبسوط للسرخسي،ج:10، ص:154)

وظاھر کلام النوویؒ في شرح المسلم الإجماع علی تحریم تصویر الحیوان وقال سواء صنعہ لما یمتھن أولغیرہ فصنعتہ حرام بکل حال لأن فیہ مضاهاۃ خلق اللہ سواء کان في ثوب أو بساط أو درهم أو إناء أوحائط وغیرھا فینبغي أن یکون حراماً لا مکروھاً أن ثبت الإجماع أو قطعیۃ الدلیل بتواترہ. (ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب الصلوۃ، باب مایفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا،ج:1، ص:647)


فتویٰ نمبر : 6581/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں