بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

غصے کی حالت میں بیوی کو طلاق دینا


سوال

ايك شخص اپنے سالے کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا اور  بہکی بہکی باتیں کر رہا تھا  کبھی کہتا کہ  میں پیر ہوں اپنی بیوی پر خود دم كروں گا اور کبھی کہتا کہ میں SPکے عہدے پر ہو،اسی اثنا میں اس کی بیوی کا تذکرہ چھیڑا گیا اس شخص نے سالے سے کہا کہ اپنی بہن كو سمجهاؤکہ وہ میری بات مانا کرے سالے نے کہا کہ وہ آپ کی بات مانتی تو ہے،پھراسی دوران  باتوں باتوں میں دونوں تیز ہوگئے اور اس شخص نے انتہائی غصے کی حالت میں اوپر کی طرف دیکھ کرایک ہی سانس میں کہاکہ "اس کو میں نے طلاق دی ہے، اس کو میں نے طلاق دی ہے، اس کو میں نے طلاق دی ہے"پھر اس کےبعد جب  سالے نے اس سے کہا کہ آپ  نے سب کچھ ختم کردیا تو اس شخص نے اوپر کی طرف ہاتھ اٹھا کر کہا کہ میں نےاِس کو کہا ہے اُس کو نہیں، تو اب اس شخص کی بیوی کو طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ طلاق تمام مباح اشیا میں مبغوض ترین چیز ہےاس لیے حتی الوسع اس سے اجتناب کرنا چاہیئے ،نیز  طلاق جس طرح عام حالات میں واقع ہوتی ہے اسی طرح غصے کی حالات میں بھی واقع ہوتی ہے،بلکہ عام طور پر طلاق غصے کی حالت میں ہی دی جاتی ہےنیز یہ کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیتا ہےتواس سے  وہ مغلظہ ہوجاتی ہے اور اس کے بعد وہ عورت اس پہلے شوہر کے نکاح میں تب ہی آسکتی ہے، جب وہ کسی دوسرے آدمی کے ساتھ نکاح صحیح کر لے اور وہ اس کو جماع کے بعد طلاق دے یا وفات پائے توعدت گزارنے کے بعد پہلے شوہر کے نکاح میں آسکتی ہے۔ لہذا صورت مسئولہ کے مطابق مذکورہ شخص نے جب غصے کی حالت میں یہ الفاظ تین مرتبہ کہے کہ "اس کو میں نے طلاق دی ہے" تو اس کی بیوی کو تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں اوروہ  مغلظہ شمار ہوگی،یعنی وہ اس پہلے شوہر کے نکاح میں تب ہی  آسکتی ہے، جب وہ کسی دوسرے آدمی کے ساتھ نکاح صحیح کر لے اور وہ اس کو جماع کے بعد طلاق دے یا وفات پائے اور دوسرے شوہر سے عدت پوری ہو جائے ۔

 

إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله. (ردالمحتار علی الدرالمختار،کتاب الطلاق، ج:4 ، ص:452)

لكن أشار في الغاية إلى مخالفته في الثالث حيث قال: ويقع الطلاق من غضب خلافا لابن القيم.وهذا الموافق عندنا لما مر في المدهوش. ( ردالمحتار علی الدرالمختار،کتاب الطلاق، ج:4، ص:452)

فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته. (رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب الطلاق، ج:4، ص:453)

(وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب (لا) ينكح (مطلقة) من نكاح صحيح نافذكما سنحققه (بها) أي بالثلاث (لو حرة وثنتين لو أمة حتى يطأها غيره). (الدر المختارشرح تنویر الأبصار، ص:230)


فتویٰ نمبر : 7347/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں