بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 09/09/2026 |
دارالافتاء
میسیج کے ذریعے قسم كا انعقاد کرنا
سوال
ایک شخص نے اپنے ایک دوست کو میسیج میں لکھا کہ "خدا کی قسم جب تک آپ خود اس بات کا اقرار نہیں کروگے اس وقت تک میں آپ سے بات نہیں کروں گا سوائے ہمارے مدرسہ کی بات کے" اب میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ جس بات کو مدنظر رکھ کر اس نے قسم والا میسیج کیا ہے وہ بات نہ ہونے تک اگر وہ بات کرے،تو کیا وہ حانث ہوجائےگا یا نہیں اور جو قسم والے الفاظ اس نے میسیج میں لکھا ہے زبان سے نہیں کہا، تو اس کا جواب کیا ہوگا؟
جواب
واضح رہے کہ جس طرح زبان سے تکلم کرنے سے قسم منعقد ہوتی ہے اسی طرح میسیج وغیرہ لکھنے سے بھی منعقد ہوجاتی ہے۔
صورتِ مسئولہ کے مطابق جس شخص نے اپنے دوست کو میسیج میں لکھا کہ" خدا کی قسم جب تک آپ خود اس بات کا اقرار نہیں کروگے اس وقت تک میں آپ سے بات نہیں کروں گا سوائے ہمارے مدرسہ کی بات کے"تو یہ قسم منعقد ہوگئی ہے؛ لہذا اگر اب دوست کے اقرار کرنے سے پہلے اس سے مدرسے کی گفتگو کے علاوہ کوئی اور گفتگو کرلی تو حانث ہوجائےگااور اس پر قسم کا کفارہ دینا لازم ہوجائے گا ۔
والكتاب كالخطاب) ش: إذ الكتاب من الغائب كالخطاب من الحاضر، فإن النبي صلى الله عليه وسلم كان يبلغ تارة بالكتاب، وتارة بالخطاب، فلو لم يكن الكتاب كالخطاب لم يكن النبي صلى الله عليه وسلم مبلغا به. ( البناية شرح الهداية، كتاب البيع، خيار القبول، ج: 8، ص: 8 )
وفي الخانية: لا أقول له كذا فكتب إليه حنث ففرق بين القول والكلام، لكن نقل المصنف بعد مسألة شم الريحان عن الجامع أنه كالكلام. ( رد المحتار، كتاب الأيمان، باب اليمين في الأكل والشرب واللبس والكلام، ج: 3، ص: 792 )
ولو قال لا أبشره فكتب إليه حنث. ( البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري، كتاب الأيمان، باب اليمين في الأكل والشرب واللبس والكلام، ج: 4، ص: 362 )
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں