بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

جائیداد اپنی رضاعی اورلےپالک بیٹی کے نام کروانا


سوال

 میاں بیوی اپنی زندگی میں اپنی رضاعی اورلےپالک بیٹی کوجوکہ شادی شدہ ہے،اپنی ساری جائیداد دینا چاہتے ہیں یعنی اس کے نام پرکرنا چاہتے ہیں،اس لئے کہ ان کی اپنی حقیقی کوئی اولاد نہیں ہے جب کہ دیگرورثا بہن بھائی موجودہیں اورصاحبِ حیثیت ہیں۔ تو کیا میاں بیوی کا یہ فعل جائزہےیا نہیں؟

جواب

 واضح رہےکہ زندگی میں اپنی ساری جائیدادکسی ایک شخص کوہبہ کرکےورثا کوقصداًمحروم کرناشرعاًجائزنہیں۔ تاہم اگرکوئی شخص اپنی جائیدادکسی کوہبہ کرےاورموہوب لہ(جس شخص کو ہبہ کیا ہے)یااس کا وکیل اس پر قبضہ کرے،تو یہ ہبہ تام ہوجائےگا۔

صورتِ مسئولہ کےمطابق اگرمیاں بیوی اپنی تمام جائیداداپنی رضاعی اورلےپالک بیٹی کوہبہ کریں اوراس میں ورثاکومحروم کرنےکاقصدہوتوان کایہ فعل جائز نہیں۔البتہ اگررضاعی اورلےپالک بیٹی خدمتی ہوتوخدمت کی بناپراپنی زندگی میں اس کوہبہ کرنےکی گنجائش ہے۔تاہم اگرانہوں نےاپنی رضاعی اورلےپالک بیٹی کوجائیدادہبہ کرکے اس کوقبضہ بھی دیاہوتو یہ ہبہ تام ہوگا۔

 

قال اللہ تعالی:﴿وَمَاجَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ(4)ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَأَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُواآبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ مَا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًارَحِيمًا(5)﴾. (الأحزاب: 4،5)

(قال) أنس: (قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من فر) بماله بصرفه للأجانب وتوزيعه لهم(من ميراث وارثه)أي: فرارامن أن يرث وارثه ماله، وحرمانا له من أخذ ماله (قطع الله)سبحانه وتعالى؛ أي: حرمه الله (ميراثه)ونصيبه(من الجنة)أي:حرمه الله تعالى بعدله من نصيبه الذي يستحقه بعمله من الجنة (يوم القيامة) متعلق بقطع. (شرح سنن ابن ماجه للھرري ، رقم الحدیث:2662)

وكذافي ‌العطاياإن لم يقصد به الإضرار. (ردالمحتارعلی الدرالمختار، كتاب الهبة، ج:8، ص:501)

 (وتتم)الهبة(بالقبض)الكامل. (الدر المختارعلی صدرردالمحتار، کتاب الھبۃ، ج:6،  ص:664)

ولونحل بعضاوحرم بعضاجازمن طريق الحكم لأنه تصرف في خالص ملكه لاحق لأحد فيه إلا أنه لايكون عدلا. (بدائع الصنائع، كتاب الهبة، فصل وأما شرائط الهبة، ج:8،ص:115)


فتویٰ نمبر : 6562/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں