بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سورۂ یٰسین اور سورۂ رحمٰن کو خاص تعداد میں پڑھنا


سوال

ہمارے علاقے میں لوگ مختلف سورتوں کا ختم کرتے ہیں مثلاً سورۂ یاسین یا سورۃ الرحمن وغیرہ تو اس کےلئے انہوں نے ایک خاص تعداد رکھی ہوتی ہے،مثلاً سورۂ یاسین کیلئے ٣٩ مرتبہ، سورۃ الرحمن کیلئے ٤١ مرتبہ وغیرہ کیا اس  تعداد کو پورا کرنا ضروری ہے؟

جواب

واضح رہے کہ کسی جائز مقصد کے لیے جو ختم وغیرہ کیا جاتا ہے وہ بطورِ علاج ہوتا ہے،اس کاقرآن یا حدیث سے ثابت ہونا ضروری نہیں ،صرف اتنا کافی ہے کہ وہ قرآن و حدیث کے معارض نہ ہو،نیز وظیفہ کو خاص تعداد میں پڑھنا بدعت نہیں بلکہ یہ بزرگوں کے تجربہ سے ثابت ہوتا ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق  اگر کوئی اپنے جائز مقصد کے لیے اجتماعی یا انفرادی طور پر سورۂ یٰس یا سورۂ رحمٰن کا ایک مخصوص تعداد کے میں ختم کرائے تو یہ جائز ہے، بشرطیکہ اس کو لازم یا قرآن و حدیث سے ثابت سمجھتے ہوئے نہ کیا جائے نہ ہی مذکورہ تعداد پوری نہ کرنے والے پر کوئی نکیر کی جائے۔

 

عن أنس، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: "إن لكل شيء قلبا، وقلب القرآن يس، ومن قرأ يس كتب الله له بقراءتها قراءة القرآن عشر مرات".( سنن الترمذي، أبواب فضائل القرآن، ‌‌باب ما جاء في فضل يٰس، ج: 5، ص: 162 )

عن أبي سعيد الخدري، قال: بعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاثين راكبا في سرية، فنزلنا بقوم، فسألناهم أن يقرونا، فأبوا، فلدغ سيدهم فأتونا فقالوا: ‌أفيكم ‌أحد ‌يرقي ‌من ‌العقرب؟ فقلت: نعم، أنا، ولكن لا أرقيه حتى تعطونا غنما، قالوا: فإنا نعطيكم ثلاثين شاة، فقبلنا، فقرأت عليه "الحمد" سبع مرات، فبرئ وقبضنا الغنم، فعرض في أنفسنا منها شيء، فقلنا: لا تعجلوا حتى نأتي النبي صلى الله عليه وسلم، فلما قدمنا ذكرت له الذي صنعت، فقال: "أوما علمت أنها رقية؟ اقتسموها واضربوا لي معكم سهما".( سنن ابن ماجه، أبواب التجارات، باب أجر الراقي، ج: 3، ص: 284 )

فليس بعد تلاوة كتاب الله عز وجل عبادة تؤدى باللسان أفضل من ذكر الله تعالى ‌ورفع ‌الحاجات ‌بالأدعية الخالصة إلى الله تعالى فلا بد من شرح فضيلة الذكر على الجملة ثم على التفصيل في أعيان الأذكار وشرح فضيلة الدعاء وشروطه وآدابه ونقل المأثور من الدعوات الجامعة لمقاصد الدين والدنيا والدعوات الخاصة لسؤال المغفرة والاستعاذة وغيرها.( إحياء علوم الدين، كتاب الأذكار والدعوات، ‌‌الباب الأول في فضيلة الذكر وفائدته على الجملة...، ج: 1، ص: 294 )


فتویٰ نمبر : 6563/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں