بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

پانی پر دم کرنا اور اس پانی کو کسی جگہ بہانا يا اس سے طہارت حاصل کرنا


سوال

پانی پر دم کرنے کی شرعا کیا حیثیت ہے اور اس پانی کو کسی جگہ پر بہا دینا کیسا ہے؟نیزاس پانی سے طہارت حاصل کرنا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ دم کرنا تین شرائط کے ساتھ جائز ہے:

(١) قرآن مجید، اللہ تعالی کے نام اور اس کی صفات کے ساتھ ہو۔
(٢) عربی زبان میں ہو یا ایسی زبان میں ہو، جس کا معنی او رمطلب سمجھ میں آئے۔
(٣) دم کو مؤثر بالذات نہ سمجھا جائے۔
ان شرائط کے ساتھ پانی پر دم کرنا جائز ہے اور مذکورہ عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔
جہاں تک بات ہے دم کیے ہوئے پانی کو بہانے اور اس سے طہارت حاصل کرنے کی، تو اس پانی کو بہانا اور اس سے وضویاغسل کرنا جائز ہے، البتہ  جو پانی قرآن مجید یا اللہ تعالی کے نام اور اس کی صفات سے دم کیا گیا ہوتو بہتر یہ ہے کہ جب دوسرا پانی دستیاب  ہو تو اس   کو نجا ست  دور کرے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔

 

‌عن محمد بن علي قال: ‌بينا ‌رسول ‌الله صلى الله عليه وسلم ‌ذات ‌ليلة ‌يصلي فوضع يده على الأرض فلدغته عقرب، فتناولها رسول الله صلى الله عليه وسلم بنعله فقتلها، فلما انصرف قال: "لعن الله العقرب، لا تدع مصليا ولا غيره، أو نبيا ولا غيره "، ثم دعا بملح وماء (فجعله) في إناء، ثم جعل يصبه على إصبعه حيث لدغته ويمسحها ويعوذها بالمعوذتين.(المصنف لابن أبي شيبة، كتاب الطب، في رقية العقرب ما هي؟، ج:13، ص:146، رقم الحديث:25099)

وقد أخرج الترمذي وحسنه والنسائي من حديث أبي سعيد كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتعوذ من الجان وعين الإنسان حتى نزلت المعوذات فأخذ بها وترك ما سواها وهذا لا يدل على المنع من التعوذ بغير هاتين السورتين بل يدل على الأولوية ولا سيما مع ثبوت التعوذ بغيرهما وإنما اجتزأ بهما لما اشتملتا عليه من جوامع الاستعاذة من كل مكروه جملة وتفصيلا وقد ‌أجمع ‌العلماء ‌على ‌جواز ‌الرقى عند اجتماع ثلاثة شروط أن يكون بكلام الله تعالى أو بأسمائه وصفاته وباللسان العربي أو بما يعرف معناه من غيره وأن يعتقد أن الرقية لا تؤثر بذاتها بل بذات الله تعالى.(فتح الباري، كتاب الرقى، قوله باب الرقى، ج:10، ص:195)

"(وكره) تحريما (بعظم وطعام وروث) يابس كعذرة يابسة وحجر استنجي به إلا بحرف آخر (وآجر وخزف وزجاج و) شيء محترم (كخرقة ديباج ويمين)"[وقال ابن عابدين تحته](قوله: وشيء محترم) أي: ما له احترام واعتبار شرعا، فيدخل فيه كل متقوم إلا الماء كما قدمناه. والظاهر أنه يصدق بما يساوي فلسا لكراهة إتلافه كما مر، ويدخل فيه جزء الآدمي ولو كافرا أو ميتا ولذا لا يجوز كسر عظمه، وصرح بعض الشافعية بأن من المحترم جزء حيوان متصل به ولو فأرة، بخلاف المنفصل عن حيوان غير آدمي. اهـ. وينبغي أن يدخل فيه كناسة مسجد، ولذا لا تلقى في محل ممتهن، ودخل أيضا ماء زمزم كما قدمناه أول فصل المياه، ويدخل أيضا الورق. قال في السراج: قيل: إنه ورق الكتابة، وقيل: ورق الشجر وأيهما كان فإنه مكروه اهـ.)رد المحتارعلی الدرالمختار،فصل فی الإستنجاء،ج:1،ص:340)


فتویٰ نمبر : 6562/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں