بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

زوجین کی طرف سے مقرر شدہ وکیل کا گواہ بننا


سوال

نکاح کے وقت کبھی ایسا موقع پیش آجاتا ہے کہ ایک ہی آدمی کو زوجین کی طرف سے وکیل بھی مقرر کیا جاتا ہے اور وہی شخص نکاح کے گواہوں میں بھی شامل ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا شریعتِ مطہرہ میں ایک ہی شخص کا نکاح میں بیک وقت وکیل اور گواہ بن جانا درست ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ مجلسِ نکاح میں اگر دلہا اوردلہن موجود نہ ہو، بلکہ انکا وکیل موجود ہو،تو اس مجلس میں وکیل کے علاوہ دو گواہان کا ہونا ضروری ہے۔جو شخص نکاح میں وکیل ہو وہ گواہ نہیں بن سکتا۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق جو شخص زوجین کی طرف سے وکیل مقرر کیا گیا ہو وہی شخص نکاح کے گواہوں میں شامل نہیں ہوسکتا،بلکہ اس کے علاوہ دو گواہوں کا ہونا ضروری ہے

 

(‌قوله: ‌ومن ‌أمر ‌رجلا ‌أن ‌يزوج ‌صغيرته فزوجها عند رجل والأب حاضر صح، وإلا فلا) ؛ لأن الأب يجعل مباشرا للعقد باتحاد المجلس ليكون الوكيل سفيرا، ومعبرا فبقي المزوج شاهدا، وإن كان الأب غائبا لم يجز؛)البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري،کتاب النکاح،ج:3،ص:98)

(‌و) ‌شرط (‌حضور) ‌شاهدين(حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا)على الاصح. (ردالمحتارعلی الدرالمختار،کتاب النکاح،ج :3،ص:21)

(‌ومن ‌أمر ‌رجلا ‌أن ‌يزوج ‌ابنته ‌الصغيرة ‌فزوجها) بحضرة رجل واحد فلا يخلو إما أن يكون الأب حاضرا أو غائبا، فإن كان حاضرا (جاز النكاح لأن الأب يجعل مباشرا للعقد ويكون الوكيل) شاهدا لأن المجلس متحد، فجاز أن يكون العقد الواقع من المأمور حقيقة كالواقع من الآمر حكما لكون الوكيل في باب النكاح (سفيرا ومعبرا، وإن كان غائبا لم يجز لأن المجلس مختلف، فلا يمكن أن يجعل الأب مباشرا) مع عدم حضوره في مجلس المباشرة.)العناية شرح الهداية،کتاب النکاح،ج:3،ص:206 (


فتویٰ نمبر : 7333/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں