بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 16/08/2026

دارالافتاء

 

ہنڈی /حوالہ کا کاروبار کرنا


سوال

ایک شخص سعودی عرب میں رہتا ہے۔ وہاں لوگوں سے رقوم ریال کی صورت میں لیتا ہے، اور پھر ان کو پاکستان میں حوالہ کے ذریعے رقم منتقل کرتا ہے۔ چونکہ وہ سعودی عرب میں ریال عام مارکیٹ ریٹ سے کم قیمت پر خریدتا ہے ـ مثلاً اگر پاکستان میں ریٹ 75 روپے فی ریال ہو تو وہ وہاں 72 یا 73 روپے کے حساب سے لیتا ہے ـ اور پھر اسی حساب سے پاکستان میں متعلقہ شخص کو رقم حوالہ کرتا ہے۔تو شرعاً اس کاروبار کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ کسی غیر رجسٹرڈ ادارے یا شخص کے ذریعے  ایک ملک کی کرنسی کو دوسرےملک کی کرنسی سے تبدیل کر کے ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجنا ہنڈی کہلاتا ہے،چونکہ یہ دو مختلف کرنسیوں کا تبادلہ ہےاس لیے اس میں کسی ایک کرنسی پر مجلس عقد میں قبضہ کرنا ضروری ہے، تاکہ بیع الکالی بالکالی (قرض کے بدلے قرض کی بیع) نہ ہو، جو شرعا ممنوع ہے۔

   صورت مسئولہ کے مطابق سعودی  میں  ریال خرید کر اس کے بدلے پاکستان میں پاکستانی روپیہ دینا  اس شرط کے ساتھ جائز ہوگا کہ   وہاں ریال  پر مجلس عقد میں قبضہ کیا جائے، نیز کسی ایک کرنسی کو دوسری کرنسی کے بدلے مارکیٹ ریٹ سے کم یا زیادہ پر بیچنا اور خریدنا  جائز ہے،تاہم ہنڈی کا کاروبار چونکہ ملکی قانون کی رو سے ممنوع ہے،اور جو ملکی قانون شریعت کے اصول سے متصادم نہ ہو، اور وہ مفاد عامہ سے متعلق ہو، اس کی پاسداری شرعا بھی ضروری ہوتی ہے، اس لیے قانون کی پاسداری کی خاطر رقوم کی ترسیل کے لیے ہنڈی کی بجائے قانونی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

 

عن ابن عمر رضي الله عنهما، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «السمع والطاعة حق ما لم يؤمر بالمعصية، فإذا أمر بمعصية، فلا سمع ولا طاعة». (صحيح البخاري، كتاب الأحكام، باب السمع والطاعة للإمام ما لم تكن معصية، رقم الحديث:7144، ج:2،ص:1075)

لو باع الفلوس بالفلوس أو بالدراهم أو بالدنانير فنقد أحدهما دون الآخر جاز. (البحرالرائق، كتاب البيع، أبواب السلم،ج:6،ص:219)

لا بد من قبض أحدهما ليخرج العقد عن الكالىء بالكالىء. (الهداية، كتاب البيع، مسائل منثورة، ج:3،ص:111)

قال وإذا عدم الوصفان الجنس والمعنى المضموم إليه حل التفاضل والنساء لعدم العلة المحرمة. (الهداية، كتاب البيع، باب الربو، ج:3،ص:83)


فتویٰ نمبر : 3993/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں