بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

گاڑی خریدنے کے لیے بینک سے سودی قرضہ لینا


سوال

 میں ایک گاڑی خریدنا چاہتا ہوں جس کی قیمت 1 کروڑ روپے ہے۔ اس میں سے 30 لاکھ روپے میں خود ادا کروں گا اور باقی 70 لاکھ روپے بینک سے قرض کی صورت میں لوں گا۔ اگر میں یہ قرض 2 سال میں ختم کرنا چاہوں تو مجھے ماہانہ 3 لاکھ 36 ہزار روپے ادا کرنے ہوں گے، اور اگر میں اسے 3 سال میں ختم کرنا چاہوں تو مجھے ماہانہ 2 لاکھ 25 ہزار روپے ادا کرنے ہوں گے۔بینک یہ بھی کہتا ہے کہ ہر گزرتے سال کے بعد وہ 6 لاکھ روپے اضافی چارجز وصول کرے گا۔ یعنی اگر میں قرض ایک سال میں مکمل کروں تو 6 لاکھ روپے، دو سال میں مکمل کروں تو 12 لاکھ روپے، اور تین سال میں مکمل کروں تو 18 لاکھ روپے اضافی چارجز لیے جائیں گے۔کیا شریعتِ اسلام کے مطابق اس طرح گاڑی خریدنا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ قرض کا اس طرح معاملہ   جس میں مقروض سے زیادہ  رقم ادا کرنے کا مطالبہ ہو ، سود کہلاتا ہے ۔سود لینا اور دینا دونوں ناجائز اور حرام ہے،رسول اللہ ﷺ نے  سود کھانے والے ،لینے والے اور دینے والے پر لعنت فرمائی ہے، اس لیے سودی معاملہ سے ہر حال میں احتراز ضروری ہے۔

صورت مسئولہ میں چونکہ بینک70 لاکھ روپے  قرض دے کر اس پر  اضافی بھی وصول کرتا  ہے ،اس لیے  یہ معاملہ کھلا سود ہے،لہذا بینک سے اس طرح قرض لینا  جائز نہیں ہے۔

 

قال اللہ تعالی:﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبا﴾.(سورة البقرة،آيت:275)

عن جابر، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه»، وقال: «هم سواء».(صحيح مسلم،باب لعن آكل الربا ومؤكله،ج:3،ص:1219)

(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر.(الدر المختار مع رد المحتار،كتاب البيوع،باب المرابحة والتولية،مطلب كل قرض جر نفعا حرام ،ج:5،ص:166)


فتویٰ نمبر : 3994/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں