بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

غسل میں زخم کی وجہ سے متاثرہ حصے پر مسح کرنا


سوال

اگر کسی شخص کے جسم پرپھوڑا (بڑا دانہ) ہو اور اس پرغسل واجب ہوجائے اورغسل کرنے سے اس کا زخم اور بھی بڑھ جانے كا اندیشہ ہوتوکیا وہ شخص  متاثرہ حصے پرمسح کرسکتاہے؟

جواب

اگرجسم کے کسی حصے پرزخم ہواوراس پر پانی بہانے سے اس کے مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہو تواس پرمسح کر لینا کافی ہے، البتہ زخم والے حصے کے علاوہ باقی جسم کا دھونا ضروری ہو گا۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق جس شخص کے جسم پر پھوڑا (بڑا دانہ) ہواور اس کو واجب غسل کی حاجت پیش آئے تو جسم کے متاثرہ حصے پرمسح کرے یعنی گیلا ہاتھ پھیرلے اورباقی جسم پرپانی ڈالےگا۔

 

(ويمسح) نحو (مفتصد وجريح على كل عصابة) مع فرجتها في الاصح۔ (قوله على كل عصابة) أي على كل فرد من أفرادها سواء كانت تحتها جراحة وهي بقدرها أو زائدة عليها كعصابة المفتصد، أو لم يكن تحتها جراحة أصلا بل كسر أو كي، وهذا معنى قول الكنز كان تحتها جراحة أو لا، لكن إذا كانت زائدة على قدر الجراحة، فإن ضره الحل والغسل مسح الكل تبعا وإلا فلا۔(الدرالمختار مع ردالمحتار، مطلب نواقض المسح،ج1،ص471)


فتویٰ نمبر : 10818/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں