بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 09/09/2026 |
دارالافتاء
معمول کی تلاوت میں سورت کہف پڑھنا
سوال
ایک شخص کا روزانہ دو سپارے پڑھنے کا معمول ہے، اور اس کے ساتھ سورۂ یٰسین، سورۂ واقعہ، سورۂ الملک اور جمعہ کے دن سورۂ کہف کی بھی تلاوت کرتا ہے۔ دو پارے جن میں سورۂ کہف بھی آتی ہے، اس کے پڑھنے سے جمعہ کے دن سورۂ کہف پڑھنے کی فضیلت حاصل ہو جائے گی یا اُس کو یہ سورت دوبارہ پڑھنی پڑے گی؟ یا جو تلاوت اس نے کی ہے وہ کافی ہوگی۔ اس طرح اور سورتوں کی بھی یہی صورت ہے؟
جواب
واضح رہےکہ احادیثِ مبارکہ میں مختلف سورتوں کے فضائل بیان ہوئے ہیں لیکن ان روایات میں مستقلاً کسی سورت کے پڑھنے کی قید نہیں بلکہ اس کی تلاوت کرنا مقصود ہے ۔
لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص معمول کی تلاوت میں سورۂ کہف پڑھے یا علیحدہ طور پر جمعہ کے دن سورۂ کہف پڑھنے کا اہتمام کرے دونوں صورتوں میں سورہ کہف پڑھنے کی فضیلت اسے حاصل ہوجائے گی اور یہی حکم باقی سورتوں کا بھی ہے،یعنی ایک بار پڑھنے سے فضیلت حاصل ہوجاتی ہے ۔
عن أبي سعيد الخدري قال: من قرأ سورة الكهف ليلة الجمعة أضاء له من النور فيما بينه وبين البيت العتيق.(مسندالدارمي،باب في فضل سورةالكهف،رقم الحديث 3610،ج:2،ص: 1081)
عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "إن سورة في القرآن ثلاثون آية، شفعت لصاحبها حتى غفر له: {تبارك الذي بيده الملك}(سنن ابن ماجه، رقم الحديث3786، باب ثواب القرآن،ج:3، ص:803)
عن عطاء بن أبي رباح، قال: بلغني أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من قرأ يس في صدر النهار، قضيت حوائجه۔
(مسند الدارمى، رقم الحديث3461، باب في فضل يس،ج:3، ص:2150)
عن ابن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:من قرأ سورة الواقعة في كل ليلة لم يصبه فاقة أبدا.(شعب الإيمان رقم الحديث2499، ج:2، ص: 492)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں