بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بلوغت سے لیکر موت تک نماز نہ پڑھنے کی صورت میں نمازوں کا فدیہ


سوال

 ایک لڑکا 20 سال کی عمر میں فوت ہو گیا اس نے کبھی نماز نہیں  پڑھی  اس کے ذمے 8 سال کی نمازیں ہیں ورثاء نمازوں کا فدیہ دینا چاہتے ہیں کیا 1 من گندم کے ساتھ 8 سال کی نماز ں  کا فدیہ ادا ہو جائے گا  اگر ادا ہو جائےتو ان  الفاظ میں فقیر کو کہہ سکتا ہے کہ 8 سال کی نمازوں کا فدیہ دیتا ہوں فقیر کہہ دے قبول ہے تو س سے فدیہ ادا ہوجائے گا یا نہیں ؟

جواب

 واضح رہے کہ جس کی  نمازیں  فوت ہو گئے ہوں پھر قضا کرنے کا موقع نہ ملا اور موت کے وقت فدیہ کی  وصیت بھی نہ   کی ہو یا فدیہ کی وصیت تو کی ہو لیکن اس  نے اتنا ترکہ نہ چھوڑا ہو جس کے ایک تہائی سےاس کی تمام فوت شدہ نمازوں اور روزوں کا فدیہ ادا کیا جا سکے تو  ایسی صورت میں اگر ورثا صاحب استطاعت ہوں تو بہتر یہ ہے کہ اپنے مال سے مرحوم کی نمازوں اور روزوں کا فدیہ ادا کردیں۔اور اگر ورثا کے پاس بھی گنجائش نہ ہو تو فقہا نے حیلہ اسقاط کی گنجائش ذکر کی ہے جس کی صورت یہ ہے کہ ورثا فدیہ کی نیت سے کچھ رقم کسی غریب ونادار مستحق زکوٰۃ کو دے کر اس کو اس رقم کا اس طرح مالک بنا دیں کہ اگر وہ مستحق رقم واپس کرنے کی بجائے خود استعمال کر لے تو ورثا کو کوئی اعتراض نہ ہو اور وہ مستحق شخص بھی یہ سمجھتا ہو کہ اگر میں یہ رقم مرحوم کے ورثا کو واپس نہ کروں تو انہیں واپس لینے کا اختیار نہیں ہے پھر وہ مستحق کسی قسم کے جبراور دباؤ کے بغیر اپنی خوشی سے وہ رقم ورثا کو واپس کردے اور پھرورثا اسی مستحق کو یا کسی اور مستحق کو اسی طرح مذکورہ طریقے کے مطابق وہ رقم دے دیں اور وہ پھراپنی خوش دلی سے انہیں واپس کردے اس طرح باربار ورثا یہ رقم کسی مستحق کو دیتے رہیں اور وہ اپنی خوشی ومرضی سے واپس کرتا رہے یہاں تک کہ مرحوم کی قضا شدہ نمازوں کے فدیہ کی مقدار ادا ہو جائے  اس  طرح  حیلہ اختیار کرنے  سے تھوڑی رقم سے سب نمازوں کا فدیہ ادا ہو سکتا ہے ۔

صورت مسؤلہ کے مطابق  اگر کسی کے ذمے آٹھ سال کی نمازوں کی قضاء ہو اور اس نے وصیت بھی نہ کی ہو تو ایسی صورت میں اگر ورثا صاحب استطاعت ہوں تو بہتر یہ ہے کہ اپنے مال سے مرحوم کی تمام  نمازوں  کا فدیہ ادا کردیں۔اور اگر ورثا کے پاس  گنجائش نہ ہو تو ایسی صورت میں سوال میں  مذکورہ صورت پر عمل کر نے  کی گنجائش ہے۔


(ولو مات وعليه صلوات فائته وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة(وكذاحكم الوتر)والصوم،وإنمايعطى (من ثلث ماله)ولم يترك مالا يستقرض وارثه نصف صاع مثلا ويدفعه الفقير ثم يدفعه الفقير للوارث ثم وثم حتى يتم وقال ابن عابدين: ثم ينبغي بعد تمام ذلك كله أن يتصدق على الفقراء بشيء من ذلك المال أو بما أوصى به الميت إن كان أوصى۔( ردالمحتار علی الدرالمختار،كتاب الصلاة،باب قضاءالفوائت،ج:2،ص :532)

إذا أراد أن يؤدي الفدية عن صوم أبيه أو صلاته وهوفقير،فإنه يعطي منوين من الحنطة فقيرا،ثم يستوهبه،ثم يعطيه هكذا إلى أن يتم۔ (الفتاوى الهندية،كتاب الحيل،الفصل الرابع فى الصوم،ج :6،ص :395)

وإن لم يترك مالا تستقرض ورثته نصف صاع ويدفع إلى المسكين ثم يتصدق المسكين على بعض ورثته ثم يتصدق ثم وثم حتى يتم لكل صلاة ما ذكرنا ولو قضاها ورثته بأمره لايجوز وفى الحج يجوز. (البحرالرائق،كتاب الصلاة،باب قضاءالفوائت،ج :2،ص :98)


فتویٰ نمبر : 10830/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں