بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بیماری کی وجہ سے گھر میں نماز پڑھنا


سوال

 میں دل کا مریض ہوں  چند دن پہلے دل کا آپریشن بھی کروایا ہے اس  وجہ سے  میری طبیعت ( دل کی دھڑکن تیز ،چکر ،بخار ،پاؤں کی سو جھن ) کی وجہ سے کافی ناساز رہتی ہے اور مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے جانے میں کافی مشکل ہوتی ہے ،تو کیا میں گھر میں نماز ادا کر سکتا ہوں یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ  جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا سنت مؤکدہ ہے اس وجہ سے بغیر کسی شرعی عذریا محض سستی  کی وجہ سے  جماعت  سے رہ جانا جائز نہیں البتہ اگر كوئي مريض ايسا هو كه مسجد جانے پر قادر نه هو يا  بیماری  کی وجہ سے گھر سے نكلنا دشوار هو تو اس صورت  گھر میں نماز پڑھنے  کی گنجائش ہے ۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگر سائل کو بیماری کے باعث مسجد جانے میں  تکلیف ہو تو گھر میں نماز پڑھ سکتاہے ،کیونکہ مجبوری اورعذرکی بنا پر جماعت چھوڑنے کی اجازت ہوتی ہے ۔

 

‌وتسقط ‌الجماعة ‌بالأعذار ‌حتى ‌لا ‌تجب ‌على المريض والمقعد والزمن ومقطوع اليد والرجل من خلاف ومقطوع الرجل والمفلوج الذي لا يستطيع المشي والشيخ الكبير العاجز والأعمى عند أبي حنيفة قال أبو يوسف سألت أبا حنيفة عن الجماعة في طين وردغة فقال لا أحب تركها والصحيح أنها تسقط بعذر المرض والطين والمطر والبرد الشديد والظلمة الشديدة.(تبيين الحقائق،کتاب الصلوۃ،باب الإمامة في الصلوة،والحدث في الصلوة ،ج:1،ص:133)

‌الجماعة ‌سنة ‌مؤكدة. ‌كذا ‌في ‌المتون والخلاصة والمحيط ومحيط السرخسي وفي الغاية قال عامة مشايخنا: إنها واجبة وفي المفيد وتسميتها سنة لوجوبها بالسنة وفي البدائع تجب على الرجال العقلاء البالغين الأحرار القادرين على الصلاة بالجماعة من غير حرج.(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الصلوۃ،الباب الخامس ،الفصل الأول في الجماعة،ج:1،ص:82)


فتویٰ نمبر : 10813/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں