بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مطلقہ عورت کا بچیوں کی خاطر شادی نہ کرنا


سوال

میں نے تقریبا 5 سال پہلے بذریعہ عدالت خاوند کی رضا مندی سے خلع لی ہے۔ میری 2 بچیاں ہیں۔ ایک کی عمر آٹھ سال دوسری کی عمر پانچ سال ہے۔ ان کی تعلیم وتربیت میری ذمہ داری ہے۔ اب خاندان سے رشتے آرہے ہیں لیکن میں ڈرتی ہوں اگر دوسری شادی کی، تو میری بیٹیوں کی زندگی اجیرن ہو جائے گی۔ ماں کی شفقت سے محروم رہ جائیں گی۔ کیا اس حالت میں، میں دوسری شادی کرسکتی ہوں؟

جواب

واضح رہے کہ شریعت مطہرہ نے مطلقہ عورت کو نکاح کرنے کی اجازت دی ہے، اگر کوئی شخص بیوی کو طلاق دے دے، یا وہ مر جائے تو عورت عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ شادی کرنے میں آزاد ہے، اگر وہ چاہے تو شادی کرسکتی ہے، تاہم اگر کسی عورت كو گناہ میں پڑنے کا خدشہ نہ ہو اور وہ بچوں کی دیکھ بال اورپرورش کی خاطر دوسری جگہ شادی نہ کرنا چاہے، تو اس پر بھی عند اللہ مأجور ہوگی۔ رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے کہ: میں اور وہ عورت جو سیاہ رخساروں والی ہو، قیامت کے دن اس طرح (قریب) ہوں گے جیسے یہ دو انگلیاں (درمیانی اور شہادت کی انگلی) وہ عورت جو اپنے شوہر کے فوت ہوجانے کے بعد شادی نہیں کرتی حالانکہ وہ خود خوبصورت اور باعزت خاندان والی تھی، بلکہ اپنی تمام تر توجہ اپنے یتیم بچوں کی پرورش پر لگا دیتی ہے، یہاں تک کہ وہ بچے بڑے ہوجائیں یا فوت ہوجائیں۔

صورت مسئولہ میں  خلع لینے کے بعد سائلہ کو دوسری جگہ نکاح کرنے کا حق حاصل ہے، البتہ اگر ممکن ہو تو کوئی ایسی جگہ تلاش کرے جہاں شوہر کی تابعداری اور خدمت کے ساتھ سائلہ کو بچیوں کی تربیت اور دیکھ بال کا بھی موقع ملتا ہو، اور اگر بچیوں کی خاطر سائلہ  نکاح نہ کرنا چاہے تو نکاح نہ کرنا بھی جائز ہے بشرطیکہ شوہر کے بغیر زندگی گزارنے میں گناه ميں پڑنے كا خدشہ بھی نہ ہو۔

 

عن عوف بن مالك الأشجعى، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "‌أنا ‌وامرأة ‌سفعاء ‌الخدين كهاتين يوم القيامة" وأومأ يزيد بالوسطى والسبابة: "امرأة آمت من زوجها ذات منصب وجمال، حبست نفسها على يتاماها حتى بانوا أو ماتوا". (سنن أبي داود، باب في فضل من عال يتيما، رقم الحدیث: 5149، ج:7، ص:460)

سفعاء الخدين" هي التي تغبر لونها لما يكابدها من المشقة والضنك، وقيل: هي التي تركت الزينة والترفه حتَّى تغبر لونها وأسود إقامة على ولدها بعد وفاة زوجها ولم يرد أنها كانت سفعاء من أصل الخلقة لقوله: "ذات منصب وجمال" "امرأة آمت" بدل، وآمت بالمد أي صارت بلا زوج، "حتَّى بانوا" أي استقلوا بأمرهم وانفصلوا عنها. (فتح الودود في شرح سنن أبي داود، باب في من ضم اليتيم، ج:4، ص:695)

(ويكون واجبا عند التوقان) فإن تيقن الزنا إلا به فرض نهاية. وهذا إن ملك المهر والنفقة، وإلا فلا إثم بتركه بدائع (و) يكون (سنة) مؤكدة في الأصح فيأثم بتركه ويثاب إن نوى تحصينا وولدا (حال الاعتدال) أي القدرة على وطء ومهر ونفقة ورجح في النهر وجوبه للمواظبة عليه والإنكار على من رغب عنه، (ومكروها لخوف الجور) فإن تيقنه حرم ذلك. (الدر المختار مع رد المحتار، كتاب النكاح، ج:3، ص:6-8)


فتویٰ نمبر : 7351/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں