بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
وتر کی تیسری رکعت میں دعائے قنوت سے پہلےتکبیر بھولنا
سوال
اگرکوئی شخص وترکی نماز میں تیسری رکعت میں دعائے قنوت کے لیے "اللہ اکبر" کہنا بھول جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟اور اگروہ سجدہ سہو بھی نہ کرے،تو پھر کیا حکم ہوگا؟
جواب
واضح رہے کہ وتر نماز کی تیسری رکعت میں قراءت کے بعد دعائے قنوت سے پہلے والی تکبیر (اللہ اکبر) کہنا واجب ہے،جس کے بھول جانےپر سجدہ سہو لازم ہوتا ہے۔
لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص وترکی نماز میں تیسری رکعت میں دعا قنوت کے لیے اللہ اکبر کہنا بھول جائے، تو اس پر سجدہ سہو لازم ہوجاتا ہے،ایسی صورت میں اگر اس نے سجدہ سہو نہ کیا تو نماز کے فرائض ادا ہوجانے کی وجہ سے اگرچہ نماز تو ادا ہوجائے گی، لیکن نماز میں نقص آجانے کی وجہ سے یہ ناقص نماز وقت کے اندر واجب الاعادہ ہوگی، البتہ اگر اس نماز کا وقت گزر گیا ہو،تو اعادہ واجب نہیں ہوگا، تاہم بہتر ہوگا۔
ولو ترك التكبيرة التي بعد القراءة قبل القنوت سجد للسهو؛ لأنها بمنزلة تكبيرة العيد. ( تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي، كتاب الصلاة، باب سجود السهو، ج: 1، ص: 194
كل صلاة أديت مع كراهة التحريم تعاد: أي وجوبا في الوقت، وأما بعده فندبا. ( الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار، كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، ص: 97 )
فالحاصل أن من ترك واجبا من واجباتها أو ارتكب مكروها تحريميا لزمه وجوبا أن يعيد في الوقت، فإن خرج أثم ولا يجب جبر النقصان بعده. فلو فعل فهو أفضل. ( رد المحتار، كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، ج: 2، ص: 64 )
ومنها القنوت) فإذا تركه يجب عليه السهو، وتركه يتحقق برفع رأسه من الركوع ولو ترك التكبيرة التي بعد القراءة قبل القنوت سجد للسهو؛ لأنها بمنزلة تكبيرات العيد. ( الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، باب سجود السهو، ج: 1، ص: 128)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں