بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سامان تجارت ميں زکوٰۃ کی ادائیگی کا طریقہ


سوال

ایک دوکان ہے جس میں ہم موبائل اور اس سے متعلق اشیاء کی تجارت کرتے ہیں ،اس پر سال گزر  چکا ہے،اس میں زکوٰۃ کی ادائیگی کا کیا طریقہ ہے؟

جواب

واضح رہے اگر کسی کے پاس اتنا مال ہو، جو ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو اور ضرورت سے زائد ہو یعنی ذاتی استعمال کے لئے نہ ہو بلکہ خرید وفروخت کے لئے ہو اور اس پر سال گزر جائے تو اس میں زکوٰۃ واجب ہو جاتی ہے ۔

لہذاصورت مسؤلہ كے مطابق اگر موبائل او ر اس سے متعلق اشیاء كی خرید وفروخت کا کاروبار کیا جاتا ہو اور اس کی قیمت  ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زائد ہو،  توسال گزرنے پر  اس میں  زکوٰۃ کی ادائیگی واجب ہے۔نیز زکوٰۃ کی ادائیگی کا طریقہ یہ ہے کہ اس سارے مال کی بازار میں  قیمت فروخت کا اندازہ  لگا کر چالیسواں حصہ بطور زکوٰۃ فقرا اور مساکین کو دیا جائےگا۔

 

حدثنا إبن نمير، عن يحيى بن سعيد، عن عبد الله بن أبي سلمة، أن أبا عمرو بن حماس، أخبره، أن أباه حماسا كان يبيع الأدم والجعاب، وأن عمر قال له: يا حماس أد زكاة مالك، فقال: والله ما لي مال إنما أبيع الأدم والجعاب، فقال: قومه وأد زكاته. (المصنف - إبن أبي شيبة، كتاب الزكوٰۃ، باب ما قالوا فی المتاع یکون عند الرجل یحول علیہ الحول، ج:2، ص: 10456)

‌قوله: ‌وفي ‌عروض تجارة بلغت نصاب ورق أو ذهب) معطوف على قوله أول الباب في مائتي درهم أي يجب ربع العشر في عروض التجارة إذا بلغت نصابا .(البحر الرائق، كتاب الزكوٰۃ، باب زكوة المال، ج:2، ص:245)


فتویٰ نمبر : 10819/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں