بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 09/09/2026 |
دارالافتاء
کرایہ داری میں اسٹامپ پیپر فیس اور مشترکہ اخراجات کی ذمہ داری
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی نے گھر کرایہ پر لیا ہو، تو اسٹامپ پیپر کا خرچہ کون ادا کرے گا ؟ نیز محلے کے اجتماعی امور مثلا:ٹرانسفارمرکے مرمت وغیرہ کے لیے پیسے اکھٹے کئے جاتے ہیں تویہ پیسے مالک مکان اور کرایہ دار میں سے کون ادا کرے گا؟
جواب
واضح رہے کہ اسٹامپ پیپر عا قدین کے درمیان ہونے والے معاہدے کا وثیقہ ہوتا ہے۔ جو بظاہر مالک اور کرایہ دار دونوں کی ضرورت ہے، اگر ابتدا معاہدے میں یہ طے کیا گیا ہو کہ اسٹامپ کے اخراجات کون ادا کرے گا، تو پھر وہی فریق اخراجات ادا کرے گا، اوراگر یہ طے نہ ہوا ہو تو پھر عرف وتعامل کا اعتبار ہوگا۔
لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر اسٹامپ پیپر لکھتے وقت اخراجات کی شرط کسی ایک پر لگائی گئی ہو، تو وہی اس کا خرچ دے گا ورنہ عرف کے مطابق ادا کرنا ہوگا، اور محلے کے اجتماعی اخراجات چونکہ کرایہ دار کے نفع کے لیے ہیں، اس لیے یہ خرچہ کرایہ دار ادا کرے گا۔
وقال النبي صلى الله عليه وسلم المسلمون عند شروطهم. (صحيح البخاري، باب أجر السمسرة، ج:3، ص:92)
المعروف عرفا كالمشروط شرطا. (مجلة الأحكام العدلية، المادة:43، ص:21)
الغرم بالغنم. (مجلة الأحكام العدلية، المادة: 86، ص:26)
(ومما يتصل بهذا الباب فصل التوابع) والأصل فيه أن الإجارة إذا وقعت على عمل فكل ما كان من توابع ذلك العمل ولم يشترط ذلك في الإجارة على الأجير فالمرجع فيه العرف. كذا في المحيط.(الفتاوى الهندية، كتاب الإجاره، الباب السابع عشر فيما يجب على المستأجر و فيما يجب على الآجر، ج:4، ص:455)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں