بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

دورانِ عدت سبق کے لیے مدرسہ جانا


سوال

ایک عورت مدرسہ میں سبق پڑھتی ہے اب اس کا شوہر فوت ہوچکا ہے، تو کیا اس کے لیے عدت کے دوران سبق کے لیے مدرسہ جانا درست ہے یا نہیں؟

جواب

جس عورت کا شوہر فوت ہو چکا ہو، اس عورت پر چار ماہ دس دن عدت گزارنا شوہر کے گھر لازم ہے اور بغیر ضرورتِ شدیدہ کے اس گھر سے نکلنا اس کے لیے جائز نہیں، تاوقتیکہ عدت پوری نہ ہو، تاہم ضرورت شدیدہ کے وقت اس کے لیے دن کے وقت گھر سے نکلنا مرخص ہے، بشرطیکہ وہ کام نمٹاتے ہی گھر واپس چلی جائے۔

 صورت مسئولہ میں چونکہ مدرسہ جانا اور سبق پڑھنا ضرورت شدیدہ نہیں، اس وجہ سے دورانِ عدت سبق کے لیے مدرسہ نہیں جاسکتی۔

 

فالظاهر ‌من ‌كلامهم ‌جواز ‌خروج ‌المعتدة عن وفاة نهارا، ولو كانت قادرة على النفقة. (البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق، کتاب الطلاق، فصل في الإحداد، ج:4، ص: 166)

(ومعتدة موت تخرج في الجديدين وتبيت) أكثر الليل (في منزلها) لأن نفقتها عليها فتحتاج للخروج، حتى لو كان عندها كفايتها صارت كالمطلقة فلا يحل لها الخروج فتح….  (وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه. ( رد المحتار علی الدر المختار، باب العدۃ، فصل في الحداد، ج:3، ص:536)


فتویٰ نمبر : 7328/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں