بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ٹیلر (درزی کا) گاہک کے کپڑے فروخت کرکے اس سے اپنے اخراجات لینا


سوال

میری ایک ٹیلری (درزی) کی دکان ہے، جہاں کپڑے سلوائے جاتے ہیں۔ ہم اپنی دکان کی رسید پر یہ نوٹ لکھتے ہیں کہ دو مہینے کے بعد ہم اس کپڑے کے ذمہ دار نہیں ہوں گے۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ گاہک دو مہینے یا اس سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود کپڑا لینے نہیں آتے، جب کہ اس کپڑے پر ہماری طرف سے آدھے یا اس سے زیادہ اخراجات ہو چکے ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں شرعاً ان تیار شدہ کپڑوں کا کیا حکم ہے؟ کیا ہم ان کپڑوں کو فروخت کر سکتے ہیں یا کسی اور طریقے سے استعمال کر سکتے ہیں؟ نیز کیا رسید میں اس طرح کی شرط لکھنا شرعاً درست ہے؟

جواب

واضح رہے کہ مال ِامانت میں مالک کی اجازت کے بغیر تصرف کرنا جائز نہیں، نیز عقد میں ایسی شرط لگاناجائز ہے  جو مقتضیٰ عقد کے موافق ہو، اور ایسی شرط جائز نہیں جو مقتضی عقد کے موافق نہ ہو اور اس میں عاقدین میں سےمحض کسی ایک شخص کافائدہ ہویا اس میں معقود علیہ (جس چیز پر عقد ہوا ہو)کا  فائدہ ہوبشرطیکہ وہ فائدے کے حصول کا اہل بھی ہو۔

صورت مسئولہ کے مطابق ٹیلر (درزی) کے پاس کپڑے امانت ہوتے ہیں اس لیے جب مالک غائب ہو اور اس کی زندگی یا موت کا پتہ نہ ہو تو اس کی چیز کی حفاظت کی جائےگی، اگر مالک کے فوت ہونے کا پتہ چلے اور اس کا وارث معلوم ہو تو اسے حوالہ کردی جائے۔ اگر وارث بھی معلوم نہ ہو تو اس صورت میں اس کے مال کی حفاظت کی جائے گی، البتہ جب مالک کے آنے کی امید نہ رہے تو درزی اس سوٹ کو بھیج کر اپنے اخراجات وصول کرسکتا ہے اور بقیہ رقم اس کے پاس لقطہ کے حکم میں ہوگی، جو مالک کے ملنے سے ناامید ہونے کی صورت میں کسی مستحق زکوٰۃ کو دی جائے گی۔ تاہم اگر مالک اس کے بعد آگیا تو اس کو اپنی طرف سے اتنی رقم دینا ضروری ہوگی۔ اسی طرح رسید میں ایسی شرط "کہ دو مہینے کے بعد ہم اس کپڑے کے ذمہ دار نہیں" لکھنا، بھی درست نہیں کیونکہ امانت جب تک مالک نے وصول نہ کی ہو اس وقت تک امانت ہی رہتی ہے۔

 

غاب ‌المودع ولا يدري حياته ولا مماته يحفظها أبدا حتى يعلم بموته وورثته، كذا في الوجيز للكردري. (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الودیعۃ، الباب الثامن فیما إذا كان صاحب الوديعة أو المستودع غير واحد، ج:4، ص:354)

وكل شرط لا يقتضيه العقد وفيه منفعة لأحد المتعاقدين أو للمعقود عليه وهو من أهل الاستحقاق يفسده. (الهداية في شرح بداية المبتدي، کتاب البیوع، باب البیع الفاسد، ج:3ص: 48)

(قوله: فينتفع الرافع) أي من رفعها من الأرض: أي التقطها وأتى بالفاء، فدل على أنه إنما ينتفع بها بعد الإشهاد ‌والتعريف ‌إلى ‌أن ‌غلب ‌على ‌ظنه ‌أن ‌صاحبها لا يطلبها، والمراد جواز الانتفاع بها والتصدق، وله إمساكها لصاحبها. وفي الخلاصة له بيعها أيضا وإمساك ثمنها. ( رد المحتار علی الدر المختار، کتاب اللقطۃ، ج:4، ص: 279)

ثم بعد تعريف المدة المذكورة الملتقط مخير بين أن يحفظها حسبة وبين أن يتصدق بها فإن جاء صاحبها فأمضى الصدقة يكون له ثوابها. (الفتاوى الهندية، کتاب اللقطۃ، ج:2، ص: 289)

 (الأجراء على ضربين: مشترك وخاص، فالأول من يعمل لا لواحد)كالخياط ونحوه...(ولا يضمن ما هلك في يده وإن شرط عليه الضمان)؛ لأن شرط الضمان في الأمانة باطل كالمودع (وبه يفتى) كما في عامة المعتبرات، وبه جزم أصحاب المتون فكان هو المذهب خلافا للأشباه. (الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار، کتاب الإجارۃ،باب ضمان الأجير،ص:582)


فتویٰ نمبر : 3989/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں